خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 353

خطبات محمود ۳۵۳ سال ۱۹۳۷ء آپ کو بادشاہ سمجھتا۔ عیسائی اپنا مذہبی پیشوا پوپ کو سمجھتے ہیں۔ لیکن جماعت احمد یہ کے نزدیک خلیفہ وقت اُس کا مذہبی پیشوا ہے ۔ پس جو بادشاہ بھی احمدی ہوگا وہ اپنے آپ کو خلیفہ وقت کا ماتحت اور اُس کا نائب سمجھے گا اور گوڈ نیوی معاملات میں اُس کے احکام نافذ ہوں گے مگرد۔ دینی معاملاء املات میں حکومت احمدی احمدی خلیفه کی ہی ہوگی ۔ اس لحاظ سے اگر اپنے موجودہ زمانہ کے لوگوں سے مقابلہ کرتے ہوئے کوئی شخص خلیفہ وقت کو بعد از خدا بزرگ توئی کہہ دے تو کہہ سکتا ہے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایک ایسا عقلی مسئلہ ہے کہ اس کا کوئی شخص انکار ہی نہیں کر سکتا۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر احمدیوں کے سوا کسی دوسرے مسلمان کے منہ سے کسی اپنے بزرگ کے متعلق یہ لفظ نکلیں کہ ہم تو خدا تعالیٰ کے بعد آپ ہی کو سمجھتے ہیں تو کیا اس کے یہ معنے لئے جائیں گے کہ وہ اُس بزرگ کا درجہ رسول کریم ﷺ سے بھی بڑا سمجھتا ہے ۔ ہر شخص جو معمولی عقل بھی رکھتا ہو سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کے فقرہ کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ اس بزرگ کا درجہ رسول کریم ﷺ سے بھی بڑا ہے بلکہ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اپنے زمانہ میں وہ تمام دنیا پر فضیلت رکھتا ہے ۔ اور احسان بھی کبھی اس پر اعتراض نہ کرے گا ۔ یہ اعتراض اس کے صرف جماعت احمد یہ کیلئے وقف ہیں ۔ صلى الله پھر یہ لوگ تعلیم قرآن سے ایسے بے بہرہ ہو چکے ہیں کہ باوجود اس کے کہ قرآن کریم میں ایسی صلى الله مثالیں موجود ہیں اور وہ انہیں پڑھتے ہیں پھر بھی اس اسلوب بیان کو نہیں سمجھ سکتے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ حضرت مریم علیہا السلام کے متعلق فرماتا ہے وَاصْطَفَاكِ عَلَى نِسَاءِ الْعَلَمِينَ کہ ساری دنیا کی عورتوں سے حضرت مریم علیہا السلام افضل ہیں ۔ مجھے نہیں معلوم کہ احسان کے ایڈیٹر کا اس بارہ میں کیا عقیدہ ہے مگر میں تو ایک منٹ کیلئے بھی اس امر کو تسلیم نہیں کر سکتا کہ حضرت مریم ہماری ماں عائشہ صدیقہ خدیجہ سے درجہ میں بلند ہوں ۔ پھر خود رسول کریم ﷺ نے ایک حدیث میں سے بڑی ہوں یا ہماری ماں خدیجہ سے درد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے متعلق فرمایا کہ فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْجَنَّةِ کے یعنی وہ جنت کی عورتوں کی سردار ہوں گی ۔ اب بتاؤ اس جنت میں حضرت مریم علیہا السلام ہوں گی یا نہیں ہوں گی ؟ اگر حضرت مریم علیہا السلام نے بھی جنت میں ہی جانا ہے اور وہ جہان کی تمام عورتوں پر فضیلت رکھتی ہیں تو حضرت فاطمہ سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْجَنَّةِ کس طرح ہو سکتی ہیں ۔ پس بہر حال اس آیت کے کوئی معنے کرنے پڑیں گے اور وہ معنے یہی ہیں کہ حضرت مریم علیہا السلام صرف اپنے زمانہ کی تمام عورتوں سے درجہ میں بلند تھیں ۔ پھر اگر