خطبات محمود (جلد 18) — Page 277
خطبات محمود ۲۷۷ سال ۱۹۳۷ء کہنے کا مطلب یہی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں دہریت کوئی بُری چیز نہیں ۔ تو شیخ صاحب خود تو جماعت کو دہریہ کہتے ہیں مگر یہ بھی کہتے ہیں کہ تمہیں کوئی حق نہیں کہ مجھے منافق یا فاسق کہو۔ اگر وہ کہیں کہ میں نے ساری جماعت کو تو نہیں کہا مگر جب وہ کہتے ہیں بہت سارے دہر یہ ہو چکے ہیں تو جو باقی رہ گئے وہ کیا ہوئے ۔ جب جماعت کے اندر ایک گندی رو پیدا ہو چکی ہو تو پھر اچھا کون رہ سکتا ہے۔ عبدالحکیم نے بھی تو ساری جماعت کے متعلق یہ نہیں کہا تھا اس نے بھی یہی کہا تھا کہ مولوی صاحب کامل مومن ہیں اور مصری صاحب بھی یہی کہہ رہے ہیں ۔ ان کے نزدیک کامل تو وہ خود، فخر الدین صاحب اور حکیم عبدالعزیز ہیں اور باقی عت ابھی ضلالت پر ہی قائم ۔ قائم ہے۔ ایک شخص : جماعت سے ن سے نکلتا اور جماعت پر اور خلیفہ پر اتہام لگا تا اور پھر کہتا ہے کہ مجھے جھوٹا نہ کہو بلکہ خلیفہ کو بُرا کہو، میں نہیں سمجھتا ایک عقلمند کی عقل اور محب کی محبت پر اس سے زیادہ حملہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے جماعت پر دہریت کا الزام لگایا ۔ مولوی ابوالعطاء صاحب نے انہیں چیلنج دیا کہ سو ایسے لوگوں کے نام جو دہر یہ ہو گئے ہوں اور سوان کے جو دہریت کی طرف جارہے ہوں بتا دیں اور باوجود اس چیلنج کے کئی بار دہرائے جانے کے وہ ایسے نام پیش نہیں کرتے ۔ تو ہم انہیں جھوٹا نہیں تو اور کیا کہیں گے ۔ جماعت اب میں بتاتا ہوں کہ شریعت کا حکم یہ ہے کہ الزام لگانے والا ثبوت دے۔ شریعت اُس کا جس پر الزام لگایا جائے ، ساتھ دیتی ہے اور ثبوت کا بار الزام لگانے والے پر ڈالتی ہے ۔ یہ نہیں کہتی کہ ثبوت لوگ تلاش کرتے پھریں۔ مثلاً کوئی شخص زید یا بکر کے پاس آئے اور کہے کہ فلاں شخص حرامزادہ ہے اور جب آگے سے کہا جائے کہ ثبوت لاؤ تو کہے کہ میں نے بتا دیا ، اب ثبوت تم خود تلاش کرتے پھرو۔ ایسے موقع پر مومنوں کو تو شریعت کا یہ حکم ہے کہ فوراً کہہ دیں سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ - الله تعالى قرآن کریم میں فرماتا ہے وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنتُ بِأَنفُسِهِمْ خَيْرًا وَ قَالُوا هَذَا إِفْكٌ مُّبِينٌ ۳۔ پھر فرمایا وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قُلْتُمْ مَّا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ کے یعنی جب کوئی شخص دوسرے مومن کے متعلق کوئی عیب کی بات کہے تو وہ آگے سے فوراً جواب دے کہ سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ ۔ اے میرے رب ! تو پاک ہے اور یہ بہت بڑا بہتان ہے۔ پھر فرمایا کیوں نہ مومنوں نے افک کا الزام سنتے ہی کہہ دیا کہ یہ بہت بڑا جھوٹ بنایا گیا