خطبات محمود (جلد 18) — Page 250
خطبات محمود ۲۵۰ سال ۱۹۳۷ء میں چلتے پھرتے ہیں بلکہ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے تک آزادی سے پھرتے ہیں ۔ پس جب حالات یہ ہوں تو کیا یہ احتیاط کرنا ہمارے لئے ضروری نہیں کہ جب سو دا انہیں دوسرے دکانداروں سے مل سکتا ہے ہم احمدی ۔ دکانداروں کو اس مصیبت میں پڑنے سے بچائیں اور جماعت کو الزام سے بچانے کی کوش کریں ۔ اور کیا ہم یہ شک نہ کریں کہ وہ احمدی دکانداروں سے سو دا خرید نے پر اس لئے اصرار کرتے ہیں تا کوئی الزام لگا کر فساد کھڑا کریں اور جماعت کو مشکلات میں ڈالیں۔ پھر خط میں صاف طور پر لکھا ہے کہ خواہ جماعت کے کسی فرد کی طرف سے کوئی حرکت سرزد ہوئی اس کا ذمہ دار خلیفہ ہوگا ۔ اب یہ عجیب بات ہے کہ آٹا تو انہیں چوہدری حاکم دین دے لیکن اگر اس آئے کے کھانے سے انہیں پیٹ درد ہو جائے یا اسہال آجائیں تو اس کی ذمہ داری خلیفہ پر ہو۔ کیا اس قسم کی دماغی حالت کو دیکھتے ہوئے میرا فرض نہیں تھا کہ میں اپنی عزت کی حفاظت اور بچاؤ کیلئے کہہ دوں کہ کوئی احمدی دکاندار انہیں سودا نہ دے تا ایسا نہ ہو کہ کل وہ مجھ پر کوئی الزام لگا دیں اور انہیں شور مچانے کا موقع مل جائے ۔ وہ خود کہہ رہے ہیں کہ حالا کہ حالات سے یہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شاید کسی دن میرے یا میر ۔ میرے اہل وعیال کی جان و مال پر حملہ ہو جائے اور پھر صاف طور پر لکھتے ہیں کہ جب ایسا حملہ ہوا تو اس کا ذمہ ار وہ شخص نہیں ہوگا جس نے حملہ کیا بلکہ خلیفہ ہوگا۔ جس شخص کا دماغ اپنی جگہ سے اس قدر ہل چکا ہو کیا وہ کل کو نہیں کہہ سکتا کہ مجھے زہر دیا گیا ہے، مجھے آٹے میں اور مٹھائی میں اور گھی میں اور دودھ میں سنکھیا ملا کر وارده دیا گیا ہے ۔ جب وہ کہتے ہیں کہ عوام میرے خلاف اتنے بھڑک چکے ہیں کہ اب میری جان اور میرا مال ان سے محفوظ نہیں تو کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ ان حالات میں وہ انہی لوگوں سے سو دا خریدنے کی کوشش کریں گے جن سے انہیں خوف ہے ۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ ان سے سودا خریدنے کی کوشش کریں تو یا تو ان کی نیت فساد کی ہوگی یا ثابت ہو گا کہ وہ الزام افترا کے طور پر لگاتے ہیں اور جان بوجھ کر لگاتے ہیں ۔ پس اگر ان کا الزام درست ہے تو اس صورت میں تو انہیں احمدیوں سے دور بھاگنا چاہئے ۔ ۔ اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمیں مصری صاحب وغیرہ سے قطع تعلق کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ جماعت کے لوگ جانتے ہیں کہ جب ہم کسی شخص کو جماعت سے خارج کرتے ہیں تو ہر ایک سے قطع تعلق نہیں کرتے بلکہ بعض باوجود اس کے کہ ہماری جماعت سے خارج ہو چکے ہوتے ہیں لوگ ان سے ملتے رہتے ہیں لیکن بعض سے ہم بالکل قطع تعلق کر لیتے ہیں اور بعض سے ایک حد تک قطع تعلق کرتے