خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 218

خطبات محمود ۲۱۸ سال ۱۹۳۷ء کا مطالعہ کرنے والے جانتے ہیں کہ ہند و صدقہ وخیرات کے کاموں میں مسلمانوں سے کم نہیں ۔ کنویں بنواتے اور دوسرے رفاہِ عام کے کام وہ بہت کرتے ہیں اور لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں ۔ مگر ایک مقروض آتا ہے اور کہتا ہے کہ لالہ جی ! میرے بیوی بچے بھوکے مر رہے ہیں ، مجھ پر رحم کریں اور پانچ روپیہ مجھے چھوڑ دیں میں ادا نہیں کر سکتا تو وہ انکار کر دیتا ہے ۔ مگر اس کا یہ انکار بخل کی وجہ سے نہیں ۔ اس کے ذہن میں یہ نظریہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہت دینے والا ہے ۔ اس نے ہمارے لئے سورج چاند پیدا کئے ہیں اور مفت دے دیتے ہیں ۔ وہ دیا لو کر پالو ہے مگر قرضہ معاف نہیں کر سکتا ، یہ انسان کو بہر حال ادا کرنا پڑے گا۔ اور یہی چیز اس کے کریکٹر میں داخل ہو گئی ہے ۔ وہ لاکھوں روپیہ خرچ کر دے گا مگر قرض پانچ روپیہ کا بھی معاف نہیں کرے گا ۔ اسی نظریہ کے ماتحت ہندو قوم میں تجارتی ترقی ہوئی ہے ۔ وہ سختی سے قرض وصول کرتی ہے اور چونکہ بہت سے لوگ دے نہیں سکتے اس کا قرض پھیلتا ہے اور اس طرح ساری دنیا اس کی مقروض ہوتی جاتی ہے اور اس وجہ سے تجارت پر اس کا قبضہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس کے برعکس مسلمان قوم کا عمل یہ ہے کہ اگر کسی مسلمان سے کوئی پیسہ مانگے تو وہ کہے گا کہ جا جا کام کر ، ہم خود کھائیں یا تم جیسوں کو دیں ۔ لیکن اگر کسی پر قرض ہوگا تو قرض خواہ سے کہے گا چھوڑ دو جانے دو۔ وہ پیسہ دینے میں بخل کرے گا مگر قرض کے معاملہ میں نہیں بلکہ کہہ دے گا چھوڑ و جانے دو، غریب آدمی ہے۔ کیونکہ اس کے ذہن میں بخشش کا اصل ، گھر کر چکا ہے۔ اور وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے۔ کوئی کتنا بڑا قصور کرے مسلمان کہہ دے گا جانے دو۔ اللہ تعالیٰ غفار ستار ہے ۔ قوم تباہ ہو جائے ، ملک اور جماعت تباہ ہو جائے ، وہ غفار تو ، ستار تو کی رٹ لگاتا جائے گا اور یہی کہتا رہے گا کہ بس جانے دو، معمولی بات ہے۔ تو تناسخ کے عقیدہ نے ہند و قوم کی عملی زندگی بدل دی ہے ۔ آج ہند و قوم تجارت پر ظاہراً اور زراعت پر باطناً قابض ہے ۔ ساہوکار زیادہ تر جینی ہیں اور یہی قوم تناسخ کی زیادہ سختی سے قائل ہے ۔ ایسے جینی عام ہندوؤں سے بھی زیادہ سخی ہوتے ہیں اور اعداد و شمار اس پر شاہد ہیں مگر وصولی میں وہ دوسروں سے سے بھی بھی زیادہ زیادہ سخت سخت ہوتے ہو ۔ ہیں ۔ آپ غور کریں اسی قسم کا عقیدہ کسی اور قوم میں ؟ بھی پایا جاتا ہے یا نہیں اور اگر پایا جاتا ہے تو اس کی حالت کیا ہے ۔ دنیا میں ایسی صرف ایک اور قوم ہے اور وہ یہودی قوم ہے۔ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ تیری آنکھ مروت نہ کرے کہ جان کا بدلہ جان ، آنکھ کا بدلہ آنکھ، دانت کا بدلہ دانت ، ہاتھ کا بدلہ ہاتھ ، پاؤں کا بدلہ پاؤں ہوگا۔