خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 207 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 207

خطبات محمود ۲۰۷ سال ۱۹۳۷ء صلى الله ساری برکت خدا تعالیٰ اور رسول کریم ﷺ کی اطاعت میں ہے۔ ہاں اگر مجھے ثبوت مل جائے تو امید ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے توفیق دے گا کہ اس کے اور اس کے رسول کیلئے نڈر ہو کر میں ان کو قربان کردوں اور ذرا بھی پرواہ نہ کروں ۔ اس فتنہ کے متعلق جو تفاصیل ظاہر ہو رہی ہیں ان پر سلسلہ کے علماء تقریریں کر رہے اور مضامین لکھ رہے ہیں۔ یہ کام بھی اپنی ذات میں نہایت اہم ہے اور جماعت کے علماء کا فرض ہونا چاہئے کہ اس قسم کے فتنوں کی ہوا پاتے ہی مقابلے کے لئے تیار ہو جائیں ۔ کیونکہ یہ سلسلہ نہ میرا ہے اور نہ ان کا ، یہ سلسلہ خدا کا سلسلہ ہے اور خدا کا ہونے کے لحاظ سے ہم سب کا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کریں ۔ اس کے خدائی سلسلہ ہونے کا ثبوت اس کثرت اور تواتر سے ہمارے سامنے آچکا ہے کہ وہ جس نے احمدیت کو سوچ سمجھ کر مانا ہے اپنے رشتہ داروں کی خاطر نہیں ، یا وہ احمدی والدین کا غافل بچہ نہیں ، اس کے سامنے اس کے لاکھوں ثبوت ہیں کہ یہ خدائی سلسلہ ہے اور اسی کے ہاتھوں سے چل رہا ہے۔ انسانوں نے لاکھوں کوششیں اسے مٹانے کی کیں مگر خدا نے اسے مٹانے سے انکار کر دیا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے کہ يُرِيدُونَ أَنْ لَّا يَتِمَّ اَمْرُكَ وَاللَّهُ يَأْبَى إِلَّا أَنْ يُتِمَّ اَمْرَكَ ، یعنی لوگ آئے اور چاہا کہ تیرے اس سلسلہ کو مٹا دیں مگر خدا نے ان کی اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا اور وہ اس کام کو ضرور پورا کرے گا۔ پس ہم نے اپنی جانوں میں ، اپنے دوستوں میں ، اپنے محلہ والوں ، گاؤں والوں کی جانوں میں اور ساری دنیا کے نفوس میں اور زمین میں اور آسمان میں ایسے تواتر سے نشان دیکھے ہیں کہ شیطان ہی ان کا انکار کر سکتا ہے۔ یا پھر وہ ازلی نابینا جسے سچائی نظر ہی نہیں آسکتی ۔ ہم نے صرف و ہی نشار ا نشان نہیں دیکھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ظاہر ہوئے بلکہ وہ بھی جو ہمارے لئے اور ہمارے دوستوں کیلئے ظاہر ہوئے ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے ہم کسی تر ڈ دیا شک میں نہیں پڑ سکتے ہمیں جو فتح حاصل ہوئی ہے وہ اسی ایمان کی وجہ سے ہے جو ہمیں اپنے خدا پر حاصل ہے ۔ دشمن اس چیز کیلئے لڑتا ہے۔ جس پر اسے یقین نہیں لیکن ہم اُس چیز کیلئے لڑتے ہیں جو ہمیں سورج سے بھی زیادہ نمایاں نظر آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب دشمن ہمارے ساتھ لڑنے لگتا ہے تو اُس کا دل کا نپتا ہے مگر جب ہم لڑنے لگتے ہیں تو ایک مضبوط چٹان کی طرح قائم ہوتے ہیں کیونکہ ہمیں یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ اگر ہم اپنی کسی کمزوری کی وجہ سے گرنے لگے تو خدا تعالیٰ خود کھڑا کر دے گا اور اُس کی تائید ہمیں قوت اور طاقت عطا کر دے گی ۔