خطبات محمود (جلد 18) — Page 193
خطبات محمود ۱۹۳ سال ۱۹۳۷ء قضائے آسمانست ایں بہر حالت شود پیدا یہ خدائی تقدیر ہے جو ہر حالت میں ظاہر ہوگی اور کوئی انسانی تدبیرا سے غلط قرار نہیں دے سکتی ۔ ہو سکتا ہے کہ تم یا میں یا کوئی اور اس لڑائی میں رخصت ہو جائیں یا رخصت کر دیئے جائیں ۔ مگر جس تعلیم پر ہم قائم ہیں اور جن باتوں کو ہم دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں انہیں کسی قسم کی زک پہنچ جائے یا ان میں ضعف اور کمزوری پیدا ہو جائے ، یہ ناممکن اور بالکل ناممکن ہے ۔ نوح کا ذکر تو ہم کیا کریں ، وہ ایک بہت بڑا اور خدا کا برگزیدہ رسول تھا۔ ابراہیم کا ذکر ہم کیا کریں کہ وہ خدا کا بہت پیارا اور اُس کا برگزیدہ رسول تھا۔ موسیٰ کا ذکر ہم کیا کریں کہ وہ خدا کا ایک اولوالعزم نبی اور اس کا برگزیدہ بندہ تھا۔ عیسی کا ذکر ہم کیا کریں کہ وہ خدا کا ایک بہت بڑا رسول تھا اور رسول اللہ ﷺ تو تمام نبیوں کے سردار تھے ان کی باتوں کا کیا کہنا ۔ خود ہمارے اندر خدا تعالیٰ نے ایسے نشانات قائم کر دیئے ہیں جن کو دیکھتے ہوئے ایک لمحہ کیلئے بھی ہم خدا تعالیٰ کی باتوں کا انکار نہیں کر سکتے ۔ میں ابھی سترہ سال کا تھا جو کھیلنے کودنے کی عمر ہوتی ہے کہ اس سترہ سال کی عمر میں خدا تعالیٰ نے الہاماً میری زبان پر یہ کلمات جاری کئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ہاتھوں سے ایک کاپی پر لکھا لئے کہ إِنَّ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ کہ وہ لوگ جو تیرے متبع ہوں گے اللہ تعالیٰ انہیں قیامت تک اُن لوگوں پر فوقیت اور غلبہ دے گا جو تیرے منکر ہوں گے۔ اس سترہ سال کی عمر میں کس کو معلوم تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات تک زندہ رہوں گا ۔ پھر کون کہہ سکتا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد سلسلہ کے متعلق کیا انتظام ہوگا۔ کیونکہ نبیوں کے زمانہ میں انبیاء کی محبت دلوں پر اس قدر غالب ہوتی ہے کہ ان کی وفات کا خیال تک بھی دل میں نہیں لایا جا سکتا ۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کو خلیفہ بنایا اور جماعت میں سلسلۂ خلافت قائم کیا تو کون اس مخالفت کو دیکھ کر جو سلسلہ کے لیڈروں کی طرف سے کی جاتی تھی، جبکہ عَلَی الإِعْلان یہ کہا جاتا تھا کہ اس بڑھے کو مرنے دو اس کے بعد خلافت کے انتظام کو ہم باطل کر کے رکھ دیں گے، کہہ سکتا تھا کہ خلافت کا سلسلہ چلے گا اور پھر کون کہہ سکتا تھا کہ آپ کے بعد خلیفہ میں ہی بنوں گا کیونکہ میں اس بات کیلئے بالکل تیار تھا کہ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے بعد خود مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کرلوں تا جماعت میں تفرقہ پیدا نہ ہو۔