خطبات محمود (جلد 18) — Page 19
خطبات محمود ۱۹ سال ۱۹۳۷ء اسمعیلیوں کے مشہور قلعہ الموت کو فتح کیا۔ ۱۲۵۸ء میں بغداد پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کیا اور لاکھوں افراد قتل کئے ۔ موصل کے حکمران کو سفا کی سے قتل کیا۔ ( اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ ، صفحہ ۱۸۵۷ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء) ۲ نادرشاه (۱۶۸۸ء ۱۷۴۷ء): ۱۷۳۶ء تا ۱۷۴۷ ء شاه ایران رہا۔ یہ خاندان افشار کا بانی تھا۔ صفوی خاندان کی حکومت میں افغانوں اور ترکوں پر فتح حاصل کر کے طاقتور ہو گیا ۔ صفوی خاندان کو ختم کر کے خود بادشاہ بن گیا۔ ۱۷۳۹ء کے کامیاب حملے میں ہندوستان سے بہت کچھ مال و متاع بالخصوص کوہ نور ہیرا اور تخت طاؤس اپنے ہمراہ لے گیا۔ اس کی فتوحات سے ایران کو بہت وسعت حاصل ہو گئی لیکن اس کے مرتے ہی شیرازہ بکھر گیا اور دولت لٹ گئی یہاں تک کہ کوہ نور بھی افغانستان پہنچ گیا۔ ہندوستان سے واپسی پر خیوا اور بخارا فتح کئے ۔ گردوں کی بغاوت فرو کرنے کے دوران افشار قبیلے کے ہاتھوں اپنے خیمے میں ہی مارا گیا۔ (اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد ۲ صفحہ ۱۹۹۲ مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء) المائده: ۳۳ بابر: ظہیر الدین محمد بن عمر شیخ مرزا ۱۴ فروری ۱۴۸۳ ء میں پیدا ہوئے ۔ ۲۶ دسمبر ۱۵۳۰ء میں وفات پائی۔ باپ کی طرف سے تیموری اور ماں کی طرف سے چغتائی چنگیزی - ۱۸ جون ۱۴۹۴ء کو سوا گیارہ برس کی عمر میں بمقام فرغانہ تخت نشین ہوا۔ بابر کو دس برس تک فتح و شکست کے نشیب و فراز دیکھنے کے بعد وطن چھوڑنا پڑا ۔ ۱۵۰۴ء میں بابر کابل پہنچ کر بادشاہ بن گیا ۔ ۱۵۲۶ء میں ابراہیم لودھی کو شکست دے کر دہلی و آگرہ پر قابض ہوا۔ ۱۵۲۷ء میں راجپوتوں کو شکست دی۔ دوسر راجپوتوں کو شکست دی۔ دوسری طرف سلطنت کی مشرقی سرحد بنگال تک پہنچادی ۔ ۴۹ برس کی عمر میں بمقام آگرہ وفات پائی اور اسے ” باغ بابر کابل میں دفن کیا گیا۔ (اُردو جامع انسائیکلو پیڈیا جلد اول صفحہ ۱۹۷ ، مطبوعہ لاہور ۱۹۸۸ء ) ه مسولینی (Mussolini Benito) - اطالوی آمر ۔ ایک لوہار کا بیٹا تھا ۔ ( پیدائش ۱۸۸۳ء۔ وفات ۱۹۴۵ ء ) اس نے ابتدائی برسوں میں ایک اُستاد اور صحافی کی حیثیت سے کام کیا۔ سوشلسٹ تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا اور ۱۹۰۵ ء میں فوج میں بھرتی ہوا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران اطالیہ کی جنگ میں