خطبات محمود (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 672

خطبات محمود (جلد 18) — Page 161

خطبات محمود ۱۶۱ سال ۱۹۳۷ء پیش کروں کہ جب آپ لوگ کہتے ہیں ” محمد زندہ باد" یا " غلام احمد کی جئے تو کیا آپ اُس وقت برداشت کریں گے کہ آپ کے جلوس میں ہی مخالف ابو جہل زندہ باد یا لیکھرام زندہ باد کے نعرے لگا ئیں تو میں سمجھتا ہوں کہ سو فیصدی لوگ اشتعال میں آجائیں گے اور وہ کہیں گے کہ ہم اپنے جلسہ یا جلوس میں اس قسم کے نعرے ہر گز نہیں سنیں گے ۔ پس اگر تم اپنے جلسوں اور جلوسوں میں ان نعروں کو سننے کیلئے تیار نہیں تو کیا تمہارا فرض نہیں کہ دوسروں کے جلسوں اور جلوسوں میں بھی تم اپنی زبانوں کو روکو اور اپنے جذبات پر قابو رکھو۔ پھر ایک اور موٹی بات ہے جس کی طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے اور وہ یہ کہ تم میں سے ایک شخص ایک مجرمانہ فعل کرتا ہے تو تم سب کو کیوں فکر پڑ جاتی ہے حالانکہ تمہارا فرض صرف اتنا ہے کہ تم مجرم کو مجرم قرار دے دو اور اس کے فعل سے اپنی بے تعلقی اور براءت کا اظہار کر دو۔ آج ہندوستان میں جس قدر فسادات ہیں ان کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ایک شخص مجرم کرتا ہے اور اُس کی ساری قوم سمجھ لیتی ہے کہ شاید ہم پر الزام لگا ہے اور زخم کردہ قوم واقعہ میں بھی اس ساری قوم کو مجرم سمجھنے لگتی ہے۔ اگر تم بھی ایسا ہی کرو تو تم میں اور ان میں کیا فرق رہ جائے ۔ اگر کسی نے مرزا غلام احمد زندہ باد کا نعرہ لگایا تو بیشک یہ فقرہ بالکل سچ تھا مگر سچے فقرے بھی بعض دفعہ فتنہ و فساد کا موجب ہو جاتے ہیں۔ قرآن کریم میں ہی آتا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ہمارے رسول ! بعض منافق تیرے پاس آتے اور قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تو اللہ کا رسول ہے مگر اے ہمارے رسول منافق اس وقت جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں ۔ پس بعض لوگوں کا رسول اللہ ﷺ کو رسول کہنا بھی جھوٹ تھا حالانکہ اس سے بڑھ کر سچی بات اور کیا ہو سکتی ہے ۔ صلى اسی طرح حضرت علیؓ کے زمانہ میں کچھ لوگ تھے جنہوں نے ایک دفعہ کہا بادشاہت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، سے مسلمانوں کے کام باہمی مشورہ سے ہونے چاہئیں ۔ حضرت علی سے کسی نے یہ بات کہی تو آپ نے فرمایا كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ أُرِيدَ بِهَا الْبَاطِلُ " کہ یہ بات تو سچی ہے مگر اس سے فساد پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تو ہر سچی بات موقع محل کو مد نظر رکھے بغیر بیان کرنی جائز نہیں ہوتی ۔ میاں اور بیوی کے تعلقات سے زیادہ حلال اور کونسا تعلق ہو سکتا ہے مگر کیا جائز ہے کہ انسان مخصوص تعلقات کا ذکر کرے۔ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں اُس عورت پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے جو اپنے خاوند