خطبات محمود (جلد 18) — Page 156
خطبات محمود ۱۵۶ سال ۱۹۳۷ء نہیں دیتا جس منہ سے تو نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دلوائی ہیں ۔ گندے سے گندے الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہے جاتے ہیں ۔ تم خود دشمن سے وہ الفاظ کہلواتے ہوا اور پھر تمہاری تگ و دو یہیں تک آ کر ختم ہو جاتی ہے کہ گورنمنٹ سے کہتے ہو کہ وہ تمہاری مدد کرے۔ گورنمنٹ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہاری مدد کرے ۔ کیا اُس کا اور تمہارا مذہب ایک ہے؟ یا اس کی اور تمہاری سیاست ایک ہے؟ یا اس کا نظام تمہارے نظام سے ملتا ہے؟ پھر گورنمنٹ تمہاری کیوں مدد کرے۔ گورنمنٹ اگر ہمدردی کرے گی تو اُن لوگوں سے جو تمہارے دشمن ہیں کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں اور تم اقلیت میں اور گورنمنٹوں کو اکثریت کی خوشنودی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ پس گورنمنٹ کو تم سے کس طرح ہمدردی ہو سکتی ہے۔ اُس کو تو اُسی وقت تک تمہارے ساتھ ہمدردی ہوسکتی ہے جب تک تم خاموش رہو اور دشمن کے مقابلہ میں صبر سے کام لو اور اس صورت میں بھی صرف شریف حاکم تمہاری مدد کریں گے اور کہیں گے انہوں نے ہمیں فتنہ و فساد سے بچالیا۔ مگر یہ خیال کرنا کہ گورنمنٹ اُس وقت مدد کرے جب دشمن تم کو گالیاں دے رہا ہو اور تم جواب میں اُسے گالیاں دے رہے ہو نادانی ہے ۔ اُس وقت اُس کی ہمدردی اکثریت کے ساتھ ہوگی کیونکہ وہ جانتی ہے اقلیت کچھ نہیں کر سکتی ۔ پس گورنمنٹ ۔ سے اسی صورت میں تم امداد کی توقع کر سکتے ہو جب خود قربانی کر کے لڑائی اور جھگڑے سے بچو اور اُس وقت بھی صرف شریف افسر تم سے ہمدردی کریں گے اور کہیں گے کہ انہوں نے ہماری بات مان لی اور خاموش رہ کر اور صبر کر کے فتنہ وفساد کو بڑھنے نہ دیا مگر رذیل حکام پھر بھی تمہارے ساتھ لڑیں گے اور کہیں گے کیا ہوا اگر دشمن کا تھپڑ اُنہوں نے کھا لیا ۔ وہ زیادہ تھے اور یہ تھوڑے۔ اگر اکثریت سے ڈر کر تھپڑ کھا لیا ہے تو یہ کوئی خوبی نہیں ۔ پس وہ تمہارے صبر کو بزدلی پر محمول کریں گے اور تمہاری خاموشی کو کمزوری کا نتیجہ قرار دیں گے۔ پس تمہارا گورنمنٹ کے پاس شکایت کرنا بالکل بے سود ہے اور مجھے تمہاری مثال ویسی ہی نظر آتی ہے جیسے پہلے زمانہ میں جب یہ معلوم نہ تھا کہ کشمیری فوج میں بھرتی ہونے کے قابل نہیں ۔ ایک دفعہ سرحد پر لڑائی ہوئی اور حکومت انگریزی نے مہا راجہ صاحب جموں سے کہا کہ اپنی فوج میں سے ایک دستہ ہماری فوج کے ساتھ روانہ کر دیں ۔ اُنہوں نے ایک کشمیری دستہ کو تیار ہو جانے کا حکم دے دیا جب وہ تیار ہو گئے تو کشمیری افسرا افسر ایک وفد کی صورت میں مہا راجہ صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم نے اتنی مدت تک آپ کا نمک کھایا ہے ہمیں لڑائی سے ہرگز انکار نہیں ، ہم ہر وقت کا