خطبات محمود (جلد 18) — Page 148
خطبات محمود ۱۴۸ سال ۱۹۳۷ء پاگل ہو گئے ہیں اور وہ گدی کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ ذرا ذراسی بات پر لڑتے اور جوش میں آکر گالیاں دینے لگ جاتے ہیں اور ان کا غصہ حد اعتدال سے بالکل باہر نکل گیا ہے ۔ مہا راجہ بیچارے کو پتہ بھی نہیں اور گورنمنٹ کے پاس شکایتیں ہو رہی ہیں کہ مہاراجہ صاحب پاگل ہو گئے ہیں ۔ پہلے چھوٹوں کی طرف سے گورنمنٹ کو لکھا گیا۔ پھر بڑے بڑے افسروں کی طرف سے اور پھر ان سے بھی بڑے عہدہ داروں کی طرف سے ۔ جب شکایتوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی اور بڑے بڑے افسروں نے خود مل کر بھی گورنمنٹ کے پاس شکایت کرنی شروع کر دی تو گورنمنٹ کو خیال پیدا ہوا کہ تحقیقات کرنی چاہئے ۔ چنانچہ اس نے مخفی طور پر کمشنر کو بھجوایا کہ وہ مہا راجہ سے باتیں کر کے رپورٹ کرے کہ یہ شکایتیں کس حد تک صحیح ہیں اور یہ بھی کہہ دیا کہ ڈاکٹر کو بھی ساتھ لیتے جاؤ اور باتوں باتوں میں اندازہ کر کے رپورٹ کرو کہ ان شکایتوں میں کس حد تک معقولیت ہے ۔ فریق مخالف جس نے شکایت کی تھی وہ چونکہ ہر تد بیر سے اپنی بات کو منوانا چاہتا تھا اس لئے اس نے سرکاری دفاتر میں بھی بعض آدمی خریدے ہوئے تھے ۔ جس وقت کمشنر صاحب تحقیقات کیلئے جانے لگے، ان سرکاری آدمیوں نے اطلاع کر دی کہ کمشنر صاحب آ رہے ہیں۔ چنانچہ جو نہی انہوں نے سمجھا کہ اب کمشنر صاحب کے آنے کا وقت بالکل قریب آ پہنچا ہے! پہنچا ہے اور ایک آدھ منٹ میں ہی وہ دربار میں داخل ہو جائیں گے ۔ انہوں نے ایک چوری جھلنے والے کو اشارہ کر دیا جسے انہوں نے پہلے سے اپنے ساتھ ملایا ہوا تھا اور اُس نے جھک کر مہا راجہ کے کان میں دو تین گالیاں ماں اور بہن کی دے دیں ۔ اب تم سمجھ سکتے ہو کہ مہا راجہ تخت پر بیٹھا ہوا ہو ، دربار لگا ہوا ہو اور چوری جھلنے والا مہا راجہ کو اُس کے کان میں ماں کی گالیاں دے دے تو اُس کی کیا کیفیت ہو سکتی ہے ۔ مہاراجہ جوش سے اُٹھا اور اس نے بے تحاشہ اُسے مارنا شروع کر دیا ۔ اب غصہ سے اُس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی اور وہ اسے ٹھڈے پر ٹھڈے مارتا چلا جا رہا تھا کہ اتنے میں کمشنر صاحب اندر داخل ہو گئے اور وہ پارٹی کی پارٹی کھڑی ہو کر کہنے لگی "حضور! روز ساڈے نال اسے طرح ہوندا ہے ۔ یعنی حضور ! ہمارے ساتھ روزانہ یہی سلوک ہوتا ہے۔ کمشنر صاحب کی رپورٹ پر گورنمنٹ نے فیصلہ کیا کہ مہا راجہ واقعہ میں حواس باختہ ہے نتیجہ یہ ہوا کہ مہا راجہ صاحب کے اختیارات محدود کر دیئے گئے اور وہ لڑکا جسے رانی نے گود میں ڈال لیا تھا اور جو ایک ملازم سرکار کا لڑکا تھا جسے بعد میں حج بنا دیا گیا ، جوان ہو کر گدی پر بٹھایا گیا اور خوش قسمتی سے نہایت شریف اور کامیاب راجہ ثابت ہورہا ہے۔