خطبات محمود (جلد 17) — Page 96
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۸۷ سال ۱۹۳۶ء اسی طرح ہم اپنی کمزوری کی وجہ سے اگر ڑکیں تو ڑکیں ورنہ خدا تعالیٰ نے ہمارے اندر بے انتہاء قابلیتیں رکھی ہیں۔ پس ہم حکومت کے بھی خیر خواہ ہیں اور عایا کے بھی مگر بعض افسر ہماری بلا وجہ مخالفت کر رہے ہیں ۔ اب انہوں نے پینترا بدلا ہے ۔ پہلے انہوں نے بعض بیوقوفوں کو آلہ کار بنایا تھا مگر جب دیکھا کہ یہ بیوقوف تو ہمیں بھی بدنام کر رہے ہیں تو اب ایسا رویہ اختیار کیا ہے جو بظاہر زیادہ محتاط ہے مگر ظلم اب بھی موجود ہے اور مجھے اُمید ہے کہ جس طرح انہیں پہلے شکست ہوئی ہے اب بھی ہوگی کیونکہ ہمارا مدار تدابیر پر نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر ہے۔ ایک دفعہ ایران کے بادشاہ نے گورنر یمن کو لکھا کہ رسول کریم ﷺ کو گرفتار کر کے ہمارے پاس بھیج دیا جائے ۔ گورنر نے بعض آدمی مدینہ میں بھیجے جنہوں نے جا کر کہا کہ ہمارے شہنشاہ کا ایسا حکم ہے ۔ آپ نے انہیں فرمایا کہ ٹھہر و ہم دو تین دن تک جواب دیں گے ۔ جب ایک دو دن گزر گئے تو انہوں نے کہا کہ دیر ٹھیک نہیں گورنر یمن نے کہا ہے کہ بادشاہ نے غلط خبروں کی بناء پر ایسا حکم دیا ہے آپ آجائیں تو میں سفارش کروں گا ۔ آپ نے فرمایا کہ ٹھہر وہم جواب دیں گے ۔ اگلے روز انہوں نے پھر از راہ نصیحت کہا کہ دیر ا چھی نہیں بادشاہ بگڑ جائے گا ۔ آپ نے فرمایا کہ جاؤ اپنے گورنر سے کہہ دو کہ ہمارے خدا نے اس کے خدا کو مار دیا ہے۔ انہوں نے پھر خیر خواہی کے طور پر کہا آپ انکار نہ کریں بادشاہ ناراض ہو گیا تو آپ کی ساری قوم کو تباہ کر دے گا مگر آپ نے فرمایا کہ بس جاؤ اور یہ جواب دے دو ۔ وہ چلے گئے اور گورنر کو یہ جواب دے دیا۔ اُس نے کہا اچھا ہم وہ چلے گئے اور کور کو یہ دیکھیں گے اگر یہ بات ٹھیک نکلی تو یہ شخص سچا ہوگا۔ چند روز کے بعد ایک جہاز ایران سے آیا جس سی میں سے کچھ - کچھ افسر نکلے اور انہوں نے گورنر کو ایک سر بمہر لفافہ دیا۔ مہر کو دیکھتے ہی گورنر نے کہا کہ مدینہ والے شخص کی بات سچی معلوم ہوتی ہے کیونکہ خط پر مہر نئی تھی ۔ جب اس نے لفافہ کھولا تو اُس میں لکھا تھا کہ ہمارا باپ ظالم تھا اس لئے ہم نے اسے قتل کر کے زمام حکومت خود سنبھال لی ہے تم لوگوں سے ہماری وفاداری کا عہد لو۔ نیز ہمارے باپ نے مدینہ کے ایک شخص کے متعلق ایک ظالمانہ حکم دیا تھا ہم اسے بھی منسوخ کرتے ہیں ہے ۔ پس جو جماعتیں خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر لیتی ہیں وہ بندوں سے نہیں ڈرا کرتیں ۔ حضرت مسیح ناصری کو صلیب پر لٹکانے والے کتنے خوش تھے کہ ہم نے عیسائیت کا خاتمہ