خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 92

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۸۳ سال ۱۹۳۶ء لینا چاہئے یہ نہیں کہ کوئی شخص دیکھے کہ شیطان نماز کیلئے جگا رہا ہے تو کہہ دے کہ جا میں نماز نہیں پڑھتا۔ الله احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک صحابی نے ایک شخص صلى الله کو رات کے وقت چوری کرتے ہوئے پکڑا ۔ حالات ایسے تھے کہ وہ سمجھتے تھے کہ میں نے جسے پکڑا ہے وہ انسان نہیں اس نے کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں تمہیں ایک بڑی اچھی بات بتاتا ہوں اور اُس نے آیت الکرسی بتائی۔ رسول کریم ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے فرمایا کہ تھا تو وہ شیطان ہی مگر بات اُس نے بہت اچھی بتائی ہے ۔ تو بعض اوقات شیطان بھی اپنے مفاد کی خاطر اچھی بات بتا سکتا ہے۔ مگر کئی لوگوں کی طبیعت میں ایسی ضد اور ہٹ ہوتی ہے کہ دشمن اگر اچھی بات انہیں کہیں تو بھی نہیں مانتے ۔ بعض اوقات دیکھا ہے کہ کسی کو نماز کیلئے جگایا جائے تو وہ کہہ دیتا ہے کہ چل میں نماز نہیں پڑھتا بعد میں چاہے پڑھ ہی لے مگر منہ سے ضرور بے ادبی کے الفاظ بول دے گا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چونکہ تم میرے دشمن ہو اس لئے تم اچھی بات بھی کہو گے تو نہیں مانوں گا حالانکہ اگر شیطان نیکی کی بات بتائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بدی کا راستہ رک گیا ۔ رسول کریم نے فرمایا ہے کہ میرا شیطان مسلمان ہو چکا ہے ہے۔ تو یہ تو خوشی کی بات ہے کہ دشمن بھی فائدہ کی بات کہے ۔ میں پس آپ لوگوں کو چاہئے کہ اچھی بات خواہ کسی کی طرف سے ہوا سے ماننے کیلئے تیار رہیں خواہ وہ حکومت کی طرف سے ہو خواہ رعایا کی طرف سے ، خواہ افسر کی طرف سے ہو، خواہ ماتحت کی طرف سے ، خواہ دشمن کی طرف سے ہو، خواہ دوست کی طرف سے اور جو بات اچھی نہ ہو اور حق کے خلاف ہو وہ خواہ کسی کی طرف سے ہوا سے قطعاً نہ مانیں سوائے انبیاء اور صلحاء کے کہ وہ جو بات بھی کہیں اُس میں حق و صداقت ہوتی ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں بعض اوقات اپنے بندے کے ہاتھ بن جاتا ہوں ، اس کے کان ، اس کی ناک ، اس کی زبان بن جاتا ہوں ہے ۔ اور جو شخص ایسا ہو جائے وہ جو بات بھی کہے گا اچھی ہی کہے گا ۔ جیسے مولانا روم نے اپنی مثنوی میں لکھا ہے کہ نے جب بولتی ہے تو وہ اُس کی اپنی آواز نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ہونٹ جس قسم کی آواز نکالتے ہیں