خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 746 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 746

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۷۳۷ سال ۱۹۳۶ء دفعہ قرعہ ڈالا اور تینوں دفعہ انہی کا نام نکلا ۔ آخر وہ حضرت یونس علیہ السلام کے پاس آئے اور کہنے لگے آپ ہیں تو راستباز انسان مگر تین دفعہ قرعہ میں آپ کا ہی نام نکلا ہے معلوم نہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ سن کر حضرت یونس علیہ السلام کا ذہن بھی اس طرف منتقل ہو گیا اور کہنے لگے میں ہی خدا کا غلام ہوں جو بھاگ کر آیا ہوں آخر انہوں نے آپ کو اُٹھا کر سمندر میں پھینک دیا تا کہ ہماری بلا دور ہو اور طوفان تھے ۔ حضرت یونس علیہ السلام جب سمندر میں گرے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نگل گئی جس نے بعد میں انہیں خشکی پر اگل دیا اس صدمہ کی وجہ سے کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں بیہوش رہے اور کھانے کو کچھ نہ ملا وہ بہت کمزور ہو چکے تھے۔ ساحل پر جہاں مچھلی نے انہیں اُگلا ایک بہت بڑی بیل اُگی ہوئی تھی حضرت یونس علیہ السلام سرک کر اُس کے سایہ کے نیچے لیٹ گئے لیکن جب انہیں کچھ طاقت حاصل ہوئی تو اُس بیل کو کیڑے نے کاٹ دیا اور وہ خشک ہو گئی ۔ حضرت یونس علیہ السلام کو یہ بات بہت بُری معلوم ہوئی اور اُس کے دل میں خیال آیا کہ کمبخت کیڑے نے بیل کو خراب کر کے مجھے تکلیف میں ڈال دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہی وحی ہوئی کہ ایک جنگلی بیل جس نے کوئی نسل نہیں چھوڑنی تھی اور جس نے تھوڑے دنوں میں خود خشک ہو کر مر جھا جانا تھا اُس کے چند دن پہلے خشک ہونے پر جب تو نے اتنے غصہ کا اظہار کیا اور کہا کہ کمبخت کیڑے نے اسے تباہ کر دیا تو بتاؤ میں اپنے ہزاروں بندوں کو کس طرح تباہ کر دیتا جبکہ وہ ابھی تباہ کرنے کے قابل نہ تھے جاؤ اور دیکھو تو بات کیا ہوتی ہے؟ حضرت یونس علیہ السلام وہاں سے نینوا کو روانہ ہوئے اور جو نہی نینوا والوں نے دیکھا کہ حضرت یونس علیہ السلام آ رہے ہیں وہ استقبال کیلئے دوڑے اور بیعت کیلئے ایک دوسرے پر گرنے لگے ۔ حضرت یونس علیہ السلام نے پوچھا بات کیا یونس علیہ نے با ہے؟ میں نے سنا ہے تم پر عذاب نہیں آیا۔ وہ کہنے لگے یونہی تو عذاب نہیں ملا ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب وہ دن آیا جو آپ نے عذاب کیلئے مقرر کیا تھا تو ہم نے دیکھا کہ آسمان کا رنگ بدل گیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا آگ برسنے لگی ہے ایک ہیبت ناک طوفان کی بنیا د دیکھ کر یکدم ہمیں خیال آیا کہ آج ہم مرے۔ اس پر ہمارے شہر کے تمام بڑے بڑے لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اب اس کا علاج یہ ہے کہ شہر کو چھوڑ دو اور جنگل میں نکل جاؤ ، مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانا چھوڑ دیں، جانوروں کے مالک جانوروں کے آگے چارہ ڈالنا بند کر دیں ، پُرانے چیتھڑے یا