خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 710 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 710

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۷٠١ سال ۱۹۳۶ء خَاشِعُونَ وہ مومن کامیاب ہو گئے جو اپنی نمازوں میں خشوع و خضوع سے کام لیتے ہیں ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے خیالات کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم کام تو کرتے ہیں مگر ہمیں ملتا کچھ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نا ممکن ہے کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کے قرب کے حصول کیلئے صحیح رنگ میں جدو جہد کرے اور پھر اسے نا کامی حاصل ہو۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک مخلص اور مؤمن بندے کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی عبادت کسی انعام کے لالچ میں نہ کرے بلکہ عبودیت کو اپنے فرائض منصبی میں شمار کرے مگر اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ اللہ تعالٰی سے کسی اچھے نتیجے کی امید نہ رکھی جائے ۔ جس بات سے روکا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت ٹھیکہ کے طور پر نہ کی جائے کہ جتنا انعام ملے گا اتنی ہی ہم عبادت کریں گے ۔ وہ عالم الغیب ہستی ہے انسان کو چاہئے کہ اپنا معاملہ اس پر چھوڑ دے اور صدق دل سے اس کی عبادت کرتا چلا جائے پھر اللہ تعالیٰ جس رنگ میں چاہے گا اسے اپنے انعامات سے حصہ عطا فرمادے گا ور نہ اگر اللہ تعالی سے کسی ثواب کی امید ہی نہ رکھی جائے تو دین ایک عبث اور رائیگاں چیز بن جاتی ہے۔ غرض خدا تعالیٰ نے اس آیت میں مومنوں کو امید دلائی ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے اچھے نتائج کی امید رکھنی چاہئے کیونکہ یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص مؤمن ہو اور پھر کامیاب نہ ہو۔ قَدْ فَلَحَ الْمُؤْمِنُونَ کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ مؤمن کامیاب ہو گئے ۔ اس رنگ میں الفاظ اُسی وقت استعمال کئے جاتے ہیں جب کوئی بات یقینی اور قطعی ہو جیسے اگر کوئی شخص سفر پر ہوا اور گھبرا کر پوچھے کہ ابھی منزل مقصود کتنی دور ہے تو دوسرا کہتا ہے کہ بس ہم پہنچ ہی گئے ہیں گویا اب شبہ والی بات نہیں ۔ اسی طرح جب کوئی یقین دلا دیتا ہے کہ وہ فلاں کام ضرور کر دے گا اور اس میں شبہ کی گنجائش نہیں تو وہ کہتا ہے کہ بس یہ کام ہوا سمجھو۔ یہ محاورہ پنجابی میں بھی اسی طرح استعمال ہوتا ہے کہ اب گویا اسے حاصل شدہ چیز ہی سمجھو۔ اسی طرف قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ میں اشارہ ہے کہ تم مؤمنوں کو بس کامیاب ہوا سمجھو اور یاد رکھو کہ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں کیونکہ مومن کا مستقبل ماضی کی مانند یقینی ہوتا ہے ۔ پھر بتایا کہ ایسے مؤمنوں کی ایک علامت یہ ہے کہ وہ نمازوں میں خشوع و خضوع کرتے ہیں ۔ خاشع کے معنے عام طور پر یہ کئے جاتے ہیں کہ جو نمازوں میں گریہ وزاری کرے ۔ اس