خطبات محمود (جلد 17) — Page 702
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۹۳ سال ۱۹۳۶ء میں نے اپنے اس درس میں بیان بھی کئے ہیں جو الفضل میں شائع ہونا شروع ہوا ہے لیکن ایک معنے اس کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ مؤمن کے انجام کو اپنا انجام قرار دے لیتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرا انجام میرا انجام ہے اگر تم اپنے دل میں عشق پیدا کر لو تو تمہارے انجام کو میں اپنا انجام قرار دے لوں گا ۔ اگر تم ہارے تو گویا میں ہارا ، اگر تم پر الزام آئے گا تو مجھ پر آئے گا ، اگر تم پر تباہی آئی تو گویا میری بادشاہت پر تباہی آئے گی ، تمہارا انجام اب تمہارا نہیں بلکہ اسے میں نے اپنا انجام بنالیا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق رسول کریم ﷺ نے جنگ بدر میں شامل ہونے والے صحابہ کو فرمایا کہ اِعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ لے جاؤ جو چاہو کرو اس کا مطلب یہ نہیں کہ جاؤ بے شک ڈاکے ڈالو، چوریاں کر و قتل و غارت کرو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی کتنا بھی زور لگا لے تم گمراہ نہیں صلى الله صلى ہو سکتے تمہا را انجام اللہ تعالیٰ نے اپنا انجام قرار دے لیا ہے اب تم گمراہ نہیں ہو سکتے ۔ اس نکتہ کے ماتحت اس بدری صحابی کا واقعہ دیکھو جس نے مکہ والوں کو اسلامی لشکر کے آنے کے متعلق اطلاع دے دی تھی ۔ رسول کریم ﷺ نے سختی سے منع فرمایا تھا کہ اہلِ مکہ کو اسلامی لشکر کے آنے کی کوئی اطلاع نہ دی جائے ۔ لیکن ایک بدری صحابی نے مکہ میں اپنے رشتہ داروں کو رقعہ لکھ بھیجا کہ آنحضرت ﷺ اپنی فوج سمیت آرہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو الہاما آگاہ کر دیا۔ آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور بعض اور صحابہ کو بلایا اور بتایا کہ فلاں رستہ پر اور فلاں منزل پر تمہیں ایک عورت ملے گی اُس کے پاس ایک رقعہ ہو گا وہ لے آؤ ۔ حضرت علی رے کے یا جب اُس عورت کے پاس پہنچے اور رقعہ کے متعلق دریافت فرمایا تو اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی فرمایا ۔ رقعہ نہیں ہے۔ اُسے دھمکیاں بھی دی گئیں مگر وہ انکار کرتی رہی ، لالچ بھی دیئے گئے مگر اُس نے نہ مانا ۔ صحابہ نے کہا کہ ممکن ہے کہ کوئی اور عورت ہو اور کسی اور طرف سے نکل گئی ہو لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا میں یہ بات نہیں ماننے کا ۔ آنحضرت ﷺ نے یہ الہام الہی سے خبر دی تھی اور صلى الله یہ ممکن نہیں کہ وہ عورت نکل کر جا سکے اور اُسے کہا کہ میں ابھی ننگا کر کے تیری تلاشی لوں گا اس لئے بہتر ہے کہ رقعہ دے دے اس سے وہ ڈر گئی اور گت کھول کر اس میں سے رقعہ نکال کر دے دیا اس میں یہ خبر لکھی تھی کہ آنحضرت ﷺ تشریف لا رہے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے اس صحابی کو بلایا اور پوچھا یہ تم نے لکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ۔ آپ نے فرمایا کیوں؟ تو انہوں نے عرض صلى الله ۔ صلى الله