خطبات محمود (جلد 17) — Page 697
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۸۸ ۳۹ سال ۱۹۳۶ء حمد کامل کیلئے صفاتِ الہیہ رَبُّ الْعَلَمِين، الرَّحْمَنِ، الرَّحِيمِ اور مَالِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا مظہر بننا ضروری ہے فرموده ۲۳ اکتوبر ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- خطبہ شروع کرنے سے پہلے میں اس امر کا اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ چونکہ نماز جمعہ کے بعد مجلس شوری کا اجلاس ہوگا اس لئے جمعہ کی نماز کے ساتھ میں عصر کی نماز بھی پڑھا دوں گا اور نماز کے بعد چند نکاحوں کا اعلان کرنا ہے۔ پہلے اُن کا اعلان کروں گا پھر دعا کے بعد مجلس شوری کے جد چند نکاحوں کا اعلان کرنا ہے۔ پہلے اُن کا اعلان کا چند کا کرتا پہلے کے اجلاس کیلئے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال کی طرف جاؤں گا۔ اس کے بعد میں دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ دنیا میں کوئی تعریف کسی انسان کو حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اس میں چار باتیں نہ پائی جائیں ۔ حقیقی تعریف ہمیشہ چار باتوں سے ہی ہوتی ہے جن کا ذکر سورہ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں سے کہو میری حمد کریں اور کہیں کہ سب کامل اور سچی تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں کیونکہ اس میں چار باتیں پائی جاتی ہیں وہ رَبُّ الْعَلَمِین ہے ایک، الرَّحْمٰن ہے دو ، الرَّحِیم ہے تین اور مَالِكِ يَوْمِ الدِّین ہے چار۔ چونکہ یہ چار باتیں اس میں پائی جاتی ہیں اس لئے وہ تعریف کا مستحق ہے۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ وہ خدا جس نے دنیا کو پیدا کیا ہے جس کا احساس انسانی زندگی