خطبات محمود (جلد 17) — Page 693
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۸۴ سال ۱۹۳۶ء کر کے اللہ تعالیٰ نے ظاہر کیا کیونکہ اُس وقت تک علم ہیئت کی ترقی اس حد تک نہیں ہوئی جس حد تک موجودہ زمانہ میں ہوئی ہے لیکن آج ہم بالکل اور رنگ میں اس نکتہ کو سمجھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آج دنیا کی لمبائی کا اندازہ میلوں میں نہیں لگایا جاتا۔ مثلاً یہ نہیں کہا جاتا کہ ایک زمین سے دوسری زمین کا اتنے میل کا فاصلہ ہے بلکہ اس لمبائی کا اندازہ روشنی کی رفتار سے لگایا جاتا ہے۔ روشنی ایک سیکنڈ میں ایک لاکھ اسی ہزار میل چلتی ہے اور دنیا کی وسعت کا اندازہ اس نور کی روشنی سے ہی لگاتے ہیں اور یہ ایک اور ثبوت ہے اس بات کا کہ اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ - اللہ ہی آسمان اور زمین کا نور ہے یعنی اس میں بتایا گیا زمین و آسمان کی وسعت کا اندازہ تم کسی اور چیز سے نہیں لگا سکتے صرف نور اور اس کی رفتار سے ہی لگا سکتے ہو۔ غرض جب ایک سیکنڈ میں روشنی ایک لاکھ اسی ہزار میل چلتی ہے تو ایک منٹ میں ایک کروڑ آٹھ لاکھ میل روشنی چلے گی ۔ پھر اسے ایک گھنٹہ کے ساتھ ضرب دو تو یہ ۶۴ کروڑ ۸۰ لاکھ میل بنتے ہیں ۔ ان میلوں کو ایک دن کی روشنی کا حساب لگانے کیلئے ۲۴ سے ضرب دیں تو یہ ۱۵ ارب ۵۵ کروڑ ۲۰ لاکھ میل رفتار بن جاتی ہے۔ اب پھر اسے ایک سال کی رفتار کا حساب نکالنے کے لئے ۳۶۰ دنوں سے ضرب دیں تو ۵۵ کھرب ۹۸ ارب ۷۲ کروڑ میل بنتے ہیں ۔ یہ حساب ایک روشنی کے ایک سال کی لمبائی کا ہوتا ہے لیکن دنیا کی لمبائی تین ہزار سال کی علم ہیئت والے قرار دیتے تھے ۔ پس ان اعداد کو ۳ ہزار سال سے ضرب دینی ہو گی اب اس کا حاصل ضرب جو نکلے وہ حسابی لحاظ سے در حقیقت نا قابل اندازہ ہی ہو جاتا ہے کیونکہ اربوں کے اوپر کا حساب در حساب در حقیقت حساب نہیں سمجھا جاتا مگر یہ حساب یہاں ختم نہیں ہو گیا جوں جوں نئے آلات دریافت ت ہو رہے ہیں یہ اندازے بھی غلط ثابت ہو رہے ہیں ۔ چنا ں ۔ چنانچہ جنگ کے بعد کی تحقیق میں یہ قرار دیا گیا کہ دنیا کی لمبائی ۶ ہزار روشنی کے سال کے برابر ہے مگر اس کے بعد بالکل تازہ تحقیق جو ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب باتیں غلط ہیں ہم دنیا کی لمبائی کا اندازہ ہی نہیں لگا سکتے کیونکہ جس طرح بچے کا قد بڑھتا ہے اسی طرح دنیا بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے اور اب اس کی لمبائی بارہ ہزار روشنی کے سالوں کے برابر ہے۔ یہ ایک اور ثبوت اس آیت کی صداقت کا ہے کہ اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ کہ خدا زمین و آسمان کا نور ہے چونکہ خدا خود غیر محدود ہے اس لئے اس کا نور بھی جس چیز میں داخل ہو جاتا ہے اُسے غیر محدود کر دیتا ہے۔ علم ہیئت کی اس ترقی کے بعد