خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 689 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 689

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۸۰ سال ۱۹۳۶ء نسلوں کی قیمت بھی سچائی کے مقابلہ میں کچھ نہیں وہ نور اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کے نور کے مقابلہ میں حقیر اور ذلیل انسان کی کیا قیمت ہو سکتی ہے ۔ وہی تو ایک چیز ہے جسے دیکھ کر خدا تعالیٰ کے پاک بندے اپنی جانیں دیتے چلے آئے ہیں ۔ حضرت نظام نظام الدیر الدین صاحب اولیاء کے کے متعلق ایک واقعہ نہ آتا آتا ہے ہے جو جو : میں نے خود تو نہیں پڑھا مگر حضرت خلیفہ مسیح الاوّل سے میں نے سنا ہے ۔ آپ ایک دفعہ شاگردوں کے ساتھ ایک بازار میں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے ایک چھوٹا سا لڑکا دیکھا جو نہایت خوبصورت تھا آپ فوراً آگے بڑھے اور اُسے چوم لیا۔ شاگردوں نے جب یہ دیکھا کہ ہمارے پیرومر شد نے ایک لڑکے کا بوسہ لیا ہے تو وہ فوراً ایک دوسرے سے آگے بڑھے اور انہوں نے اس لڑکے کو چومنا شروع کر دیا۔ اُن کے ایک مرید تھے جو ان کے بہت مقرب تھے اور بعد میں ان کے خلیفہ بھی ہوئے انہوں نے اس موقع پر لڑکے کو نہ چوما بلکہ الگ کھڑے رہے ۔ یہ دیکھ کر باقی لوگ باتیں بنانے لگ گئے کہ اس شخص کے دل میں حضرت بزرگ صاحب کا ذرا بھی ادب نہیں بزرگ صاحب نے ایک کام کیا اور اس نے نہیں کیا۔ وہ حسد کی وجہ سے آہستہ آہستہ یہ اعتراض کرتے چلے جا رہے تھے کہ چلتے چلتے راستہ میں حضرت نظام الدین صاحب اولیاء نے دیکھا ایک بھٹیارا بھٹی میں آگ جلا رہا ہے اور اُس کے شعلے اس تیزی سے بھڑک رہے ہیں کہ پاس کھڑا نہیں ہوا جاتا۔ حضرت نظام الدین صاحب اولیاء کے چہرہ پر یہ دیکھ کر یکدم ایک تغییر آیا اور ر بودگی کی سی حالت طاری ہو گئی اور جھٹ آگے بڑھے اور آگ کے شعلہ کا بوسہ لے لیا مگر آگ کا بوسہ لینے سے نہ تو اُن کے بال جلے اور نہ منہ ۔ وہ پیچھے ہٹے تو وہی شاگرد جو بعد میں ان کا خلیفہ ہوا اور جس نے لڑکے کو نہیں چوما تھا آگے بڑھا اور اُس نے بھی آگ کو بوسہ دیا پھر پیچھے ہٹ کر اُس نے دوسروں سے کہا حضرت نظام الدین صاحب اولیاء نے آگ کو بوسہ دیا ہے آپ بھی اسے بوسہ دیجئے ۔ مگر وہاں بوسہ دینے کی انہیں کس طرح جرات ہو سکتی تھی وہاں تو وہی بوسہ دے سکتا تھا جسے خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہو کہ آگ تیری غلام بلکہ تیرے غلاموں کی بھی غلام ہے۔ جب ان میں سے کوئی شخص آگے نہ بڑھا تو وہ شاگردان سے مخاطب ہو کر کہنے لگا میں نے تمہارا اعتراض سنا ہے کہ پیر صاحب نے لڑکے کو بوسہ دیا مگر اس نے نہیں دیا حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ پیر صاحب نے لڑکے کو بوسہ نہیں دیا تھا بلکہ انہیں اس میں سے نور اللہ نظر آیا تھا