خطبات محمود (جلد 17) — Page 683
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۷۴ سال ۱۹۳۶ء نے یہ بحیثیت انسان نہیں کہا کہ اگر تو پیدا نہ ہوتا تو میں زمین و آسمان کو پیدا نہ کرتا بلکہ نمائندہ صداقت صلى الله ۔ ہونے کی حیثیت سے کہا اور اس وجہ سے کہا کہ محمد ﷺ کا وجو دسچائی سے مل گیا تھا یہاں تک کہ سچائی صلى الله اور محمد ﷺ میں کوئی فرق نہ رہا تھا۔ اسی طرح اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے کہا کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک ہے کہ اگر تو نہ ہوتا تو میں زمین و آسمان کو پیدا نہ کرتا ۔ یہ بھی آپ کو بحیثیت انسان نہیں کہا گیا بلکہ ایک نمائندہ صداقت ہونے کی حیثیت سے کہا گیا اور اس وجہ سے کہا گیا کہ آپ کا وجود سچائی سے مل گیا یہاں تک کہ آپ میں اور سچائی میں کوئی فرق نہ رہا۔ صلى صلى الله صلى الله ر پس جب خدا نے کہا کہ لَوْلاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک تو اس کے یہی معنی تھے کہ اگر سچائی نہ ہوتی ، اگر دنیا میں یہ حقیقت مضمرہ نہ ہوتی جو سارے عالم کی جان ہے جو خدا میں سے آتی اور پھر خدا میں ہی جا کر مل جاتی ہے تو میں زمین و آسمان کبھی پیدا نہ کرتا۔ یہ سارا عالم اس سچائی کیلئے پیدا کیا گیا ہے اس دائمی ، اس از لی اور اس ابدی سچائی کیلئے جو خدا میں سے آتی اور خدا میں ہی واپس چلی جاتی ہے اس دائمی سچائی کے کامل نمائندے محمد ﷺ تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک ۔ اور اس دائمی سچائی کے ظلی نمائندے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے پس اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی فرمایا کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک لیکن مستقل طور پر محمد ﷺ کو ہی کہا گیا ہے کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک یعنی اے محمد ﷺ چونکہ تو اس دائمی سچائی کا نمائندہ ہے جو مجھ میں سے آتی اور مجھ میں ہی آکر مل جاتی ہے اور جس کا اشارہ هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ھے میں بھی ہے اس لئے اگر تو پیدا نہ ہوتا جو سچائی کا نمائندہ بننے والا تھا تو میں زمین و آسمان کبھی پیدا نہ کرتا مگر چونکہ تو ایک زمانہ میں میری سچائی کا کامل نمائندہ بننے والا تھا اس لئے میں نے زمین و آسمان کو پیدا کر دیا کیونکہ تیرے ذریعہ میری اس صداقت اور سچائی کا ثبوت ملنا تھا ۔ علی پھر جب محمد ﷺ کے وجود میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آکر اپنے وجود کو فنا کر دیا۔ اپنے کر آپ کی محبت میں اپنے آپ کو مٹا دیا اور سچائی کی اُس چادر کو اوڑھ لیا جو دائمی ہے، جواز لی اور ابدی ہے، جو خدا میں سے آتی اور خدا میں ہی واپس چلی جاتی ہے تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی الہا ما فرمایا کہ لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْأَفْلاكَ اب خود سوچ لو جس جرم اور جس صلى الله