خطبات محمود (جلد 17) — Page 681
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۷۲ سال ۱۹۳۶ء اسے عادت پڑ جاتی ہے اور یہ عادت ہی اس کے بچاؤ کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے۔ غرض سردیوں میں وضو کرنا یا تہجد اور صبح کی نماز کیلئے اُٹھنا ایک ابتلاء ہے مگر اس ابتلاء میں انسان کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی سہولت اور آرام کو مد نظر رکھ لیا کرے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے استاد بعض دفعہ طالب علم سے کہتا ہے کہ تم اپنے کان خود کھینچو ۔ طالب علم اُستاد کے اس حکم کی تعمیل میں جب اپنے کان کھینچے گا تو وہ ضرور لحاظ رکھ لے گا کہ اسے تھوڑے سے تھوڑا اورد ہو لیکن جب وہ طالب علم شرارت سے باز نہیں آتا تو پھر استادا سے یہ نہیں کہتا کہ اپنے کان خود کھینچو بلکہ وہ دوسرے سے کہتا ہے کہ اس کے کان کھینچو۔ پس وہ اس کے کان کھینچتا ہے اور کان کھینچنے کے ساتھ اسے جھٹکے بھی دیتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ایک ابتلاء تو اس قسم کے آیا کرتے ہیں جو اختیاری ہوتے ہیں اور جن میں انسانوں کو اجازت دی جاتی ہے کہ وہ اپنی سہولت اور آرام کو مد نظر رکھ لیں لیکن جب انسان ان ابتلاؤں سے فائدہ نہیں اُٹھاتے تو وہ یہ کام اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور پھر اُس وقت انسان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف ابتلاء ہی نہیں آتے بلکہ جھٹکے بھی ملتے ہیں اور جب اُسے جھٹکے آتے ہیں تو اس کے سوا اور لوگوں کو بھی جھٹکے آتے ہیں اور وہ سب اپنی اپنی جگہوں سے ہلائے جاتے ہیں ۔ مدینہ میں بعض یہودی قو میں رہتی تھیں جو مسلمانوں سے ہمیشہ فتنہ وفساد کا بازار گرم همیشه فتنه وفساد کا بازار کرم رکھتیں ۔ جب ان کی شرارتیں حدود سے تجاوز کر گئیں تو رسول کریم ﷺ نے ان کے سامنے یہ امر کی اے نے ان کے سامنے پیش فرمایا کہ چاہو تو تم خود اپنے آپ کو سزا دے لو اور چاہو تو ہم تمہیں سزا دیں ۔ وہ سمجھدار لوگ تھے انہوں نے کہا ہم خود ہی اپنے آپ کو سزا دے لیتے ہیں چنانچہ وہ مدینہ چھوڑ کر چلے گئے اور باہر آباد ہو گئے ۔ لیکن بعض دفعہ جب خدا اور اس کے رسولوں کے دشمن یہ کہتے ہیں کہ ہم اور تم اکٹھے نہیں رہ سکتے اور یہ کہ تم یہاں سے چلے جاؤ ورنہ ہم تمہیں یہاں سے نکال دیں گے تو خدائی جواب انہیں یہ ہوتا ہے کہ یہ ہماری زمین ہے اور یہ بندے بھی ہمارے بندے ہیں یہ تو یہاں سے نہیں جا سکتے لیکن اگر تم نبیوں کی جماعتوں سے مل کر نہیں رہ سکتے تو ہم تمہیں یہاں سے نکال کر رہیں گے۔ چنانچہ پھر خدا انہیں نکالتا ہے اور اسی طرح نکالتا ہے جس طرح اس نے کانگڑہ میں لوگوں کو نکالا ، جس طرح اس نے بہار میں لوگوں کو نکالا ، جس طرح اس نے کوئٹہ میں لوگوں کو نکالا ، اس