خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 656 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 656

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۴۷ سال ۱۹۳۶ء طریق اختیار کرنا یقینا وقار کے خلاف فعل ہوگا اور ہمارے لئے مناسب ہوگا کہ ہم انہیں چھوڑ دیں لیکن موجودہ حالات کا تقاضا بالکل اور ہے۔ یا د رکھو لوگوں کی رسوم اور لوگوں کے رواج اور لوگوں کی عادات کوئی چیز نہیں اصل چیز یہ ہے کہ ہمارا کوئی قدم اسلام کے خلاف نہ ہو اور ہمارا کوئی کام عقل و دانش اور موقع ومحل کی رعایت سے خالی نہ ہو اگر اسلام اور احمدیت کی خدمت میں ہمیں کوئی ایسا کام کرنا پڑے جو ہماری عادات یا رسوم و رواج کے خلاف ہو تو ہمیں اس کے اختیار کرنے سے ہچکچا نا نہیں چاہئے کیونکہ ہمارا اصل کام اسلام اور احمدیت کی خدمت ہے لیکن اگر اسلام اور احمدیت کیلئے کوئی بات مضر ہے تو خواہ وہ ہمارے رسوم اور ہمارے رواج کے مطابق ہو اُس کو چھوڑنے اور ترک کرنے میں ہی برکت ہوگی ۔ غرض اگر کسی بات میں اسلام کا کوئی فائدہ ہے تو ہم اسے ہی اختیار کریں گے خواہ ہمیں اُس کیلئے کتنی بڑی قربانی کرنی پڑے اور خواہ اس کو اختیار کر کے ہم دنیا کی نگاہ میں بے وقار ہی بن جائیں ۔ پس سست اور غافل مت بنو بلکہ باوقار بنومگر ان معنوں میں نہیں کہ تم اپنے باپ دادوں کے پرانے طریق کو چھوڑنے کیلئے تیار نہ ہو بلکہ ان معنوں میں جن معنوں میں قرآن کریم نے اس لفظ کو استعمال کیا ہے یعنی جو کام کرو وہ پُر حکمت ہو، وہ عقل کے ماتحت ہو اور تمہارا مقصد و مدعا اس سے یہ ہو کہ لوگوں کو فائدہ پہنچے ۔ جب بھی تمہارے سامنے کوئی کام پیش ہو تم غور کرو کہ اس سے سے یہ ہو کہ کو ۔ بھی سامنے ہو تم ۔ اسلام اور احمدیت کو فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں۔ اگر اس سے اسلام اور احمدیت کو فائدہ پہنچتا ہو، اگر وہ موقع اور محل کے مطابق ہو، اگر وہ حکمت اور دانائی کی روح اپنے اندر رکھتا ہو ، پھر خواہ اس کی کوئی شکل اور کوئی صورت ہو تمہارا فرض ہے کہ اس کام کو کرو کیونکہ وہی کام تمہارے وقار کا موجب ہے اور جو اس کے خلاف ہے اس کو مت کرو کیونکہ اس میں تمہارا وقار نہیں بلکہ بے وقاری ہے ۔ ( الفضل ۱۰ اکتوبر ۱۹۳۶ء) ا نوح: ۱۰ تا ۲۱ النور : ٣٢