خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 647 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 647

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۳۸ سال ۱۹۳۶ء اور میں نے انہیں ایسی باتیں نہیں کہیں جو ان کیلئے بوجھل ہوں اور جن پر عمل کرنے سے انہیں تکلیف ہو بلکہ میں نے اُنہیں یہی کہا کہ اپنے رب سے معافی مانگو یہ نہیں کہا جیسا کہ پادری کہتے ہیں کہ میرے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے ان کے متعلق معافی طلب کرو بلکہ میں نے انہیں کہا کہ تم دنیا کے کسی انسان کے سامنے نہیں بلکہ عالم الغیب خدا کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کرو اور یہ اقرار کوئی مضر بھی نہیں کیونکہ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا وہ خدا ایسا ہے جو گناہوں کو بہت بخشا ہے۔ پس اگر تم گناہوں کی معافی اللہ تعالیٰ سے طلب کرو گے تو تمہیں فائدہ ہوگا اور خدا تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ پھر میں نے انہیں کہا کیا تم دیکھتے نہیں کہ باوجود تمہارے گناہوں کے اللہ تعالیٰ آسمان سے کثرت سے تمہارے لئے بارشیں نازل کرتا ہے اور اُس نے تمہیں بیٹے دیتے ہیں ، مال دیا ، باغات دیتے ہیں نہریں دی ہیں ، جب وہ تمہارے گنہگار ہونے کی حالت میں تم سے اتنا سلوک کرتا ہے تو اگر تم توبہ کر لو گے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو گے تو سوچو تو سہی کہ خدا تم سے کیسا اچھا معاملہ کرے گا ، جب تم اس کی رضا مندی کیلئے کوئی کام نہیں کرتے بلکہ اس کے غضب کو اپنے اوپر بھڑکاتے ہو اور وہ تمہاری اس حالت کے باوجود تم پر اس قدر فضل کرتا ہے تو جب تم اسے خوش کر لو گے تو وہ تمہارے لئے کیا کچھ نہیں کرے گا۔ پھر وہ کہتے ہیں میں نے ان کے سامنے یہ بات بھی پیش کی کہ مَالَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا آخر تم جو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے تو اسی لئے نا کہ سمجھتے ہو کہ ہم سے کوئی سوال جواب نہ ہوگا اور نہ ہم مرکز دوبارہ اُٹھائے جائیں گے یہی دنیا کی زندگی ہے جس میں ہمارا کام ہے کہ کھائیں اور پیئیں اور عیش اُڑائیں خدا کو اس سے کیا غرض کہ ہم دنیا میں کیا کرتے ہیں اور آیا اس کی عبادت بھی کرتے ہیں یا نہیں مگر مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا تم کو کیا ہو گیا کہ تم خدا تعالیٰ کے متعلق یہ خیال نہیں کرتے کہ وہ باوقار ہے۔ یعنی ہر کام حکمت کے ماتحت کرتا ہے اور موقع اور محل کے مطابق کرتا ہے۔ اور کیوں یہ خیال کرتے ہو کہ اس نے تم کو یونہی بغیر کسی مقصد اور مدعا کے پیدا کیا ہے۔ پھر وہ اپنے اس دعویٰ کی کہ خدا تعالیٰ کا بندوں کو پیدا کرنا بغیر حکمت کے نہیں ہو سکتا یہ دلیل دیتے ہیں کہ وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا خدا تعالیٰ نے تم کو مختلف حالتوں اور ھیئتوں میں پیدا کیا ہے۔ یعنی اول تو انسانی پیدائش ایک وسیع قانون کے ماتحت ہے، باریک ذرات سے اس نے سب دنیا کو جوڑا، پھر ادنیٰ حالت