خطبات محمود (جلد 17) — Page 635
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۶۲۶ سال ۱۹۳۶ء غرض میں نے مناسب سمجھا کہ اس موقع پر وقار کی حقیقت کو بھی بیان کر دوں اور قرآن کریم کی اس آیت کو بھی پیش کر دوں جس میں وقار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ میں نے کہا ہے کہ یہ لفظ ہمارے ملک میں شرمندہ معنی نہیں ہوا اور اس کا پتہ اس امر سے بھی لگ سکتا ہے کہ جب کسی شخص کے سامنے بہادری کا لفظ بولا جائے تو جرات اور بہادری کا ایک مفہوم فوراً اس کے ذہن میں آجاتا ہے اور وہ خوب سمجھتا ہے کہ بہادری کیا چیز ہوتی ہے گو ممکن ہے وہ بہادری کی تفصیلات اور اس کی باریکیوں کو نہ سمجھتا ہوں لیکن اس لفظ کا ایک مفہوم اُس کے سامنے ضرور آ جاتا ہے۔ اسی طرح جب کسی کے سامنے سچائی کا لفظ بولا جائے تو گوسچائی کی بار یک قسمیں اور صداقت اور راستی کی باریک شقیں اس کے ذہن میں نہ آئیں مگر سچائی کا ایک موٹا سا نقشہ اُس کے ذہن میں فوراً آجاتا ہے اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ سچائی کا کیا مفہوم ہے۔ اسی طرح جب کسی شخص کے سامنے امانت کا ذکر کرو تو چاہے وہ امانت کی باریک قسمیں نہ جانتا ہو خواہ وہ امانت اور دیانت کی اس تفصیل سے نا آشنا ہو جو قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ نے بیان فرمائی ہے پھر بھی اس کا صلى الله موٹا سا مفہوم اور امانت و دیانت کے موٹے معنے اُس کے ذہن میں ضرور آجاتے ہیں اور وہ سمجھ ہے جاتا ہے کہ امانت کا لفظ کسی مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے ۔ اسی طرح اکثر انسانی اخلاق کا حال جب بھی ان میں سے کسی خُلق کا ذکر انسان کے سامنے کیا جائے اس کا کوئی نہ کوئی مفہوم ذہن میں ضرور آجاتا ہے اور وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں مگر جب لوگ وقار کا لفظ بولتے ہیں تو در حقیقت اس کا کوئی مفہوم بھی اس کے ذہن میں نہیں ہوتا بلکہ اگر ہم ذرا گہرے غور سے کام لیں اور وقار کا لفظ عام محاورہ کے مطابق استعمال کریں اور پھر سوچیں کہ ہم نے کس چیز پر وقار کا لفظ استعمال کیا ہے تو ہمیں فوراً معلوم ہو جائے گا کہ وقار کے معنے ہم اتنے ہی سمجھتے ہیں کہ جو چیز ہمیں پسند نہیں آئی ۔ گویا جو چیز ہمیں پسند نہ آئے اس کے متعلق ہم کہہ دیتے ہیں کہ وہ وقار کے خلاف ہے لیکن اگر ہمیں پسند ہو تو ہم اسے خلاف وقار نہیں کہتے ۔ گو یا وقار کیلئے ہمارے محاورہ کے مطابق اس فعل کے ہیں جو وقار کا لفظ استعمال کرنے والے کو پسند آئے ۔ مگر چونکہ ہر شخص کی طبیعت الگ الگ ہوتی ہے اس لئے افعال کو پسند اور ناپسند کرنے کے متعلق پھر اختلاف پیدا ہو جائے گا حالانکہ دوسرے امور کے متعلق یہ اختلاف ہمیں نظر نہیں آتا۔