خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 605 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 605

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۹۶ سال ۱۹۳۶ء لوگ اسے یقینی طور پر پتھر سمجھ رہے تھے اور مجھے بھی اُس وقت تک یہ خیال نہیں آیا تھا کہ اگر پتھر ہوتا تو نشان چھت پر لگ جاتا اس لئے غالباً یہ کوئی اور شے ہے ( گو بعض صورتوں میں نشان نہیں بھی ہو سکتا لیکن سو میں سے نناوے دفعہ پتھر کا نشان ہونا چاہئے ) ۔ اس لئے میں نے بھی اُس دوست کی تائید کی اور کہا کہ اس چیز کو تلاش کر ولیکن چونکہ مغرب کا وقت ہو چکا تھا اس لئے ایک آدھ منٹ کے بعد ہی میں نے کہہ دیا کہ اب چلو ۔ ہاں ایک بات رہ گئی جو یہ ہے کہ میرے پیچھے جو سائیکلسٹ آرہے تھے اُن سے جب میں نے دریافت کیا کہ تم کو معلوم ہے کہ وہ چیز کس طرف سے آئی تھی تو انہوں نے دائیں طرف سے اس کا آنا بتایا ( یعنی شمال سے آتے ہوئے جو دائیں طرف ہے یعنی مغرب کی سمت ) ۔ ہم جو موٹر میں تھے دھماکے سے ہمارا بھی یہی اندازہ تھا کہ وہ چیز شمال مغربی سمت سے آکر گری ہے۔ اس کی تصدیق سائیکلسٹوں نے بھی کی جنہوں نے یہ بیان کیا کہ انہوں نے خود اُدھر سے ایک چیز آتی ہوئی دیکھی ہے جسے وہ ایک ہاتھ کے برابر پتھر سمجھتے تھے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ چونکہ مغرب کا وقت ہو گیا تھا میں دوستوں کو ساتھ لے کر موٹر میں سوار ہو گیا اور مزید تحقیق ترک کر دی گئی ۔ میری غرض وہاں ٹھہرنے کی صرف اتنی تھی کہ اگر کوئی شخص ایسا پایا جائے تو ہمیں علم ہو جائے کہ وہ کون شخص ہے اور دوسرے میں اسے نصیحت بھی کروں کہ ایسی فضول باتوں سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا ۔ اس قسم کے واقعات در حقیقت انبیاء کی جماعتوں سے ہونے لازمی ہیں اور ہوتے رہتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لاہور میں ایک دفعہ ایک گلی میں سے جا رہے تھے شیخ رحمت اللہ صاحب ، مرزا ایوب بیگ صاحب اور غالباً مفتی محمد صادق صاحب بھی ساتھ تھے کہ کسی نے زور سے پیچھے سے آپ پر دو ہنٹر مارا اور آپ گر گئے ۔ جو دوست ساتھ تھے وہ اس شخص کو کی مارنے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا نہیں نہیں یہ معذور ہے اس نے اپنے خیال میں تو نیکی کا کام ہی کیا ہے اسے کچھ نہ کہو جانے دو۔ تو یقینا اگر وہ شخص مجھے مل جاتا تو میں ایسا ہی نمونہ دکھاتا۔ میں نے سنا ہے کہ بعض دوستوں نے کہا کہ اگر وہ مل جاتا تو کیا ہم اسے زندہ چھوڑتے ؟ مگر میں جانتا ہوں کہ میری موجودگی میں انہیں چھوڑنا ہی پڑتا۔ میری غرض صرف اتنی تھی کہ کسی کے پتہ لگ جانے سے ایک تو معاملہ کی اصل حقیقت واضح ہو جاتی دوسرے اس کیلئے شرمندگی اور ندامت