خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 581 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 581

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۷۲ (۳۳) سال ۱۹۳۶ء جماعت کو تدریجی طور پر اب قربانیوں کے میدان میں آگے سے آگے قدم رکھنا ہو گا (فرموده ا ار ستمبر ۱۹۳۶ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- کھانسی اور گلے کی تکلیف کی وجہ سے میرے لئے بلند آواز سے بولنا بالکل جائز نہیں لیکن چونکہ بخار میں تخفیف ہے اور دو جمعے درمیان میں میں یہاں خطبہ نہیں پڑھا سکا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ تکلیف اٹھا کر بھی آج خطبہ جمعہ خود پڑھاؤں ۔ سمجھا کہ اٹھا میں نے چند جمعے ہوئے غالباً ے اگست کو جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی تھی کہ چند جمع ہوئے غالباً ہے، اگست کو تحریک جدید کے چندہ کے متعلق میں بعض دوستوں میں سستی اور غفلت دیکھتا ہوں حالانکہ اس چندہ کی تحریک طوعی تھی جبری نہ تھی ۔ یعنی ہر شخص کو اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اس چندے میں شامل ہو یا نہ ہو۔ صرف تحریک کی جاتی تھی اور ہر شخص کو اس میں شامل ہونے کا پابند نہیں بنایا جاتا تھا۔ اس سستی کو دیکھ کر یہ خطرہ بھی ہو سکتا تھا کہ یہ چیز تو ہمارے سامنے آجاتی ہے مگر اس تحریک کے وہ دوسرے حصے جو سامنے نہیں آتے ممکن ہے دوست ان میں بھی سستیاں کر رہے ہوں مثلاً ایک کھانا کھانے کی تحریک ہے یا سادہ لباس کی تحریک ہے یا بیکار نہ رہنے کی تحریک ہے یا تبلیغ کی تحریک ہے ان ساری قسم کی تحریکوں کے متعلق قدرتی طور پر یہ شبہ پیدا ہونا