خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 579

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۷۰ سال ۱۹۳۶ء لَا إِلَهَ إِلَّا الله ایک جامع اجمال ہے اور ماٹو اجمال کا ہی نام ہے۔ اس زمانہ میں چونکہ دجال اپنی پوری طاقت کے ساتھ دنیا میں رونما ہے اور اُس کا نصب العین یہ ہے کہ میں دنیا کو دین پر مقدم رکھوں گا اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس کے مقابل پر یہ کہیں کہ تم تو دنیا کو دین پر مقدم کرتے ہو لیکن ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اور چونکہ ہم نے دجالی فتنہ کا قلع قمع کرنا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الہام کی بناء پر شرائط بیعت میں ایک یہ شرط بھی رکھی ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا، جس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں دجال سے ہمارا سخت مقابلہ پڑے گا۔ وہ دنیا کو دین پر مقدم کر کے دکھلائے گا اور ہم اُس کے جواب میں دین کو دنیا پر مقدم کر کے دکھلائیں گے ۔ دجال کا مقصد دنیاوی آرام کو حاصل کرنا ہو گا لیکن ہم دین کی راہ میں مصائب کا آنا ایک نعمت تصور کریں گے ۔ لیکن اگر ہم کو خدا تعالیٰ دنیاوی آرام بھی دے دے تو یہ کوئی بُری بات نہیں ۔ کیا آنحضرت ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ مجھے قیصر و کسری کے خزانے دیئے گئے ہیں ۔ تو اگر خزانوں کا ملنا بری بات ہوتی تو حضور کو کیا نَعُوذُ بِاللهِ بُری چیز دی گئی ؟ ہرگز نہیں ۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ ہم دنیا کے تابع نہ ہو جائیں بلکہ دنیا کو اپنے ماتحت اور تابع رکھیں اور اس کو اپنے اوپر سوار نہ ہونے دیں بلکہ ہم اس پر سوار رہیں ۔ ورنہ ہماری مثال اُس میراثی کی سی ہوگی جس نے ونے دیں بلکہ ہم اس پر سوار ہیں دعا کی تھی کہ اسے سخی سرور ! مجھے کوئی جانور سواری کیلئے دے۔ ابھی وہ چلا جا رہا تھا کہ اُس کو ایک جا گاؤں کا رئیس مل گیا جس کی گھوڑی نے راستے میں ہی بچہ دے دیا تھا۔ اُس رئیس نے جب میراثی کو دیکھا تو کہا کہ میری گھوڑی کے بچہ کو اُٹھا کر شہر لے چل ۔ یہ عجیب معاملہ دیکھ کر میراثی بول اُٹھا واہ سخی سرور ! تو بھی اُلٹی ہی سمجھ کا مالک ہے تجھ سے تو میں نے جانور سواری کیلئے مانگا تھا تو نے اُٹھانے کیلئے دے دیا۔ تو جو انسان دنیا کو اپنے سر پر اٹھا لیتا ہے اُس کی مثال بعینہ اس میراثی کی سی ہے کیونکہ دنیا تو خدا تعالیٰ انسان کو اس لئے دیتا ہے کہ انسان اس پر چڑھے لیکن وہ احمق دنیا کو اپنے سر پر اٹھا لیتا ہے۔ پس اصل چیز جس سے دنیا کی ترقی ہے وہ لَا اِلهَ اِلَّا اللہ ہی ہے اور اس کی عینک جس الله سے یہ نظر آسکے وہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ﷺ ہیں ۔ جس طرح عینک کے بغیر آدمی کچھ نہیں دیکھ سکتا