خطبات محمود (جلد 17) — Page 552
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۴۳ سال ۱۹۳۶ء جب آپ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ان لوگوں کو اس رستہ سے آتے جاتے اور اس پر بیٹھتے عرصہ سے دیکھ رہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں ۔ اس پر عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ آپ کے بڑے بھائی صاحب نے اسے اپنی ذلت محسوس کیا اور بہت ناراض ہوئے مگر آپ نے فرمایا کہ جب واقعہ یہ ہے تو میں کس طرح انکار کر سکتا تھا۔ اسی طرح آپ کے خلاف ایک مقدمہ چلایا گیا کہ آپ نے ڈاک خانہ کو دھوکا دیا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس زمانہ میں یہ قانون تھا کہ اگر کوئی شخص پیکٹ میں کوئی چٹھی ڈال کر بھیج دے تو سمجھا جاتا تھا کہ اس نے ڈاک خانہ کو دھوکا دیا ہے اور ایسا کرنا فوجداری مجرم قرار دیا جاتا تھا جس کی سزا قید کی صورت میں بھی دی جاسکتی تھی ۔ اب وہ قانون منسوخ ہو چکا ہے اب زیادہ سے زیادہ ایسے پیکٹ کو بیرنگ کر دیا جاتا ہے۔ اتفاقاً آپ نے ایک پیکٹ مضمون کا اشاعت کیلئے ایک اخبار کو بھیجا اور اس قانون کے منشاء کو نہ سمجھتے ہوئے اس میں ایک خط بھی لکھ کر ڈال دیا جو اس اشتہار کے ہی متعلق تھا اور جس میں اسے چھاپنے وغیرہ کے متعلق ہدایات تھیں ۔ پریس والے غالباً عیسائی تھے اُنہوں نے اس کی رپورٹ کر دی اور آپ پر مقدمہ چلا دیا گیا۔ آپ کے وکیل نے کہا کہ پیش کرنے والوں کی مخالفت تو واضح ہے اس لئے ان کی گواہیوں کی کوئی حقیقت نہیں اگر آپ انکار کر دیں تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اُس زمانہ میں اکثر مقدمات میں آپ کی طرف سے شیخ علی احمد صاحب وکیل گورداسپوری پیروی کیا کرتے تھے اور آپ کی پاکیزہ زندگی کو دیکھ کر دعوٹی کے بعد بھی گو وہ احمدی نہ تھے آپ پر بہت حُسنِ ظن رکھتے تھے ۔ انہوں نے آپ سے کہا کہ اور کوئی گواہ تو ہے نہیں پھر وہ خط اسی مضمون کے متعلق ہے اور اسے اشتہار کا حصہ ہی کہا جا سکتا ہے اس لئے آپ بغیر جھوٹ کا ارتکاب کئے کہہ سکتے ہیں کہ میں نے تو اشتہار ہی بھیجا تھا خط کوئی نہیں بھیجا ۔ مگر آپ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ یہ نہیں ہو سکتا جو بات میں نے کی ہے اس کا انکار کس طرح کر سکتا ہوں ۔ چنانچہ جب آپ پیش ہوئے اور عدالت نے دریافت کیا کہ آپ نے کوئی خط مضمون میں ڈالا تھا تو آپ نے فرمایا ہاں۔ اس راستبازی کا دوسروں پر تو اثر ہونا تھا ہی خود عدالت پر ہی اس قدر اثر ہوا کہ اس نے آپ کو بری کر دیا اور کہا کہ ایک اصطلاحی جرم کیلئے ایسے راستباز آدمی کو سزا نہیں دی جاسکتی ۔