خطبات محمود (جلد 17) — Page 529
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۵۲۰ سال ۱۹۳۶ء کمی ہو تو ان کاموں کو جن کو شروع کیا جا چکا ہے بند کر دیا جائے ۔ میں پہلے بھی اشارہ بیان کر چکا ہوں کہ روپیہ کی کمی کی وجہ سے کام ہرگز بند نہیں کئے جاسکتے ۔ اگر روپیہ کی آمد میں کمی ہوئی تو کا رکنوں کی تنخواہیں دس فیصدی کم کر دی جائیں گے اور اگر دس فیصدی کمی کر کے بھی گزارہ نہ ہوا تو ان کی تنخواہوں میں بیس فیصدی کمی کر دی جائے گی اور اگر بیس فیصدی کمی بھی ضروریات کو پورا نہ کر سکی تو تمہیں فیصدی کمی کر دی جائے گی اور اگر تیس فیصدی کمی کافی ثابت نہ ہوئی تو چالیس بلکہ پچاس فیصدی کمی کر دی جائے گی ۔ صدرانجمن احمد یہ کے جو کا رکن پہلے سے کام کر رہے ہیں یا وہ کا رکن جنہوں نے اس تحریک جدید پر کام شروع کیا ہے میں آج سے ان سب کو ہوشیار کر دیتا ہوں کہ اگر انہیں اپنی تنخواہوں میں یہ کمی منظور نہ ہو تو وہ بے شک اپنی نوکریوں کا باہر انتظام کر لیں ۔ مجھے یقین ہے کہ پانچ یا دس دفعہ بھی اگر مجھے آدمی بدلنے پڑے تو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے نئے آدمی بھیجتا چلا جائے گا اور وہ کام پورا ہو کر رہے گا جس کے کرنے کا ذمہ ہم نے اُٹھایا ہوا ہے اور جس کو تکمیل تک پہنچانے کا فرض ہم پر عائد کیا گیا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کا نام انبیاء علیہم السلام نے شیطان کی آخری لڑائی کا زمانہ رکھا ہے اس لڑائی کی آگ میں جب تک ہم اپنی ہر چیز جھونکتے نہ جائیں گے اُس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ شاہجہاں کی نسبت آتا ہے کہ اُس کی بیوی نے مرنے سے پہلے خواب میں دیکھا کہ میں مرگئی ہوں اور میری قبر پر بادشاہ نے ایسا ایسا مقبرہ بنایا ہے یہ وہی مقبرہ ہے جسے آجکل تاج محل کہتے ہیں اور آگرہ میں ہے۔ اس نے بادشاہ کے پاس ذکر کیا وہ چونکہ بیمار تھی اور بادشاہ کو اس کی دلجوئی مد نظر تھی اس لئے اُس نے بڑے بڑے انجینئر بلائے اور کہا کیا اس قسم کی عمارت بنا سکتے ہو؟ سب نے کہا یہ تو کسی جنت کی عمارت کا نقشہ ہے ہم اسے تیار نہیں کر سکتے آخر ایک انجینئر آیا اور اس نے کہا بادشاہ سلامت ! ایسی عمارت بن سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ آپ میرے ساتھ کشتی میں سوار ہو کر جمنا کے دوسرے کنارے چلیں اور ہزار ہزار روپیہ کی دوسو تھیلیاں اپنے اپنے ؟ پاس رکھوا لیں ۔ تجویز میں بتا دوں گا اور وہ جگہ بھی بتادوں گا جہاں اس قسم کا مقبرہ بن سکتا ہے۔ بادشاہ نے حکم دیا جس پر فورا ہزار ہزار روپیہ کی دو سو تھیلیاں خزانہ سے آگئیں ۔ اس نے ان تھیلیوں کو کشتی میں رکھا اور انجینئر کے ساتھ سوار ہو کر جمنا کے دوسرے کنارے جانے کیلئے روانہ