خطبات محمود (جلد 17) — Page 503
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۹۴ سال ۱۹۳۶ء اولاد، دوستوں اور رشتہ داوں کو دنیاوی فوائد حاصل ہوں بلکہ اس انعام سے مراد وہ قربانیاں اور تکالیف ہیں جو انبیاء کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے میں اُٹھانی پڑتی ہیں اور یہی وہ انعام ہے جس کے مانگنے کیلئے اللہ تعالیٰ ہم کو حکم فرماتا ہے۔ نبیوں کے بعد صدیقوں کا مقام ہے۔ صدیقوں میں سے حضرت ابوبکر کی ذات ہمارے سامنے ہے۔ ہم آپ کی ذات کا مشاہدہ کر کے معلوم کرتے ہیں کہ کیا صدیقیت کے مقام میں کسی قسم کی ذاتی بڑائی مد نظر ہوتی ہے ؟ حضرت ابو بکر صدیق کا اعلیٰ مقام خلافت تھا ہم دیکھتے ہیں کہ کیا اس صدیق نے اس مقام کو ذاتی بڑائی کا ذریعہ بنایا ؟ اس حقیقت کو معلوم کرنے کیلئے میں رسول کریم ﷺ کے معا بعد کا ایک واقعہ لیتا ہوں ۔ حضرت نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد سوائے صلى الله صلى الله چند علاقوں کے تمام عرب میں بغاوت پھیل گئی اور اس موقع پر حضرت عمرؓ جیسے صحابی بھی خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے اور دوسرے صحابہؓ نے یہ مشورہ کیا کہ ان باغیوں سے رعایت کی جائے اور زکوۃ کے لینے میں ان سے نرمی اختیار کی جائے ۔ دوسرے یہ کہ وہ لشکر جو اسامہ کے ماتحت حضور نے عیسائیوں سے لڑنے کیلئے بھیجا تھا اُس کو روک لیا جائے اور اس لشکر سے موجودہ بغاوت کے دبانے میں۔ میں مدد لی جائے ۔ یہ مشورہ کر کے حضرت عمرؓ، حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور اُن سے جا کر یہ دونوں باتیں کہیں ۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ ایک مشورہ آپ کا یہ ہے کہ جیشِ اسامہ کو روک لوں ، میرا جواب اس بارہ میں یہ ہے کہ کیا ابن قحافہ کی یہ طاقت ہے کہ وہ اس لشکر کو جو رسول کریم ﷺ نے بھیجا تھا روک لے؟ یہ لشکر ضرور جائے گا خواہ کفار کا لشکر مدینہ میں گھس آئے اور خواہ مدینہ کی عورتوں کی لاشیں گلیوں میں پھینک دی جائیں ہے ۔ باقی رہا ز کوۃ کے مطالبہ میں نرمی اختیار کرنا تو زکوۃ تو خدا تعالیٰ کا حکم ہے اگر لوگ اونٹ کی وہ رسی تک جس سے اونٹ کا گھٹنا صلى الله باندھتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں دیا کرتے تھے اب دینے سے انکار کریں گے تو میں ان سے جنگ کروں گا ہے۔ یہ بات بتاتی ہے کہ وہ ہر عزت خدا اور اس کے رسول کیلئے سمجھتے تھے اپنے لئے انہیں کسی امر کی خواہش نہ تھی ۔ صلى الله ان کی زندگی میں ایک اور مثال بھی نظر آتی ہے حضرت ابوبکر کے بیٹے عبدالرحمن بھی خلافت کے لائق تھے اور لوگوں نے کہا بھی کہ ان کی طبیعت حضرت عمرؓ سے نرم ہے اور لیاقت بھی