خطبات محمود (جلد 17) — Page 450
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ بڑا بوجھ سمجھ کر سستی کرتا ہے۔ ۴۴۱ سال ۱۹۳۶ء لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ قوت عملیہ کی کمزوری دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک حقیقی اور ایک غیر حقیقی ۔ غیر حقیقی تو یہ ہے کہ قوت تو موجود ہو لیکن مثلاً عادت وغیرہ کی وجہ سے زنگ لگا ہوا ہو اور حقیقی یہ ہے کہ ایک لمبے عرصہ کے عدم استعمال کی وجہ سے وہ مردہ کی طرح ہو گئی ہو اور اسے بیرونی مدد اور سہارے کی ضرورت پیدا ہو گئی ہو۔ غیر حقیقی کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص میں مثلاً طاقت تو ایک من بوجھ اٹھانے کی ہے لیکن بوجہ کام کرنے کی عادت نہ ہونے کے وہ اس بوجھ کو اٹھانے سے گھبراہٹ محسوس کرتا ہے۔ ایسا شخص اگر کسی وقت اپنی طبیعت پر دباؤ ڈالے گا تو اس بوجھ کو اٹھانے میں کامیاب ہو جائے گا اور حقیقی مثال یہ ہے کہ بوجہ دیر تک کام نہ کرنے کے کام کی طاقت ہی باقی نہ رہی ہو اور اب وہ مثلاً دس سیر ہیں سیر سے زیادہ نہیں اٹھا سکتا ایسے شخص سے اگر ہم ایک من بوجھ ن اُٹھوانا چاہیں تو ہمیں اُسے کوئی مددگار دینا ہوگا یا اس کے بوجھ کو دس دس سیر کے حصوں میں تقسیم کرنا ہوگا۔ غرض جب طاقت کا خزانہ موجود نہ ہو اُس وقت بیرونی ذرائع اختیار کرنے پڑتے ہیں تا کہ جو کام سامنے ہے اسے پورا کر دیا جائے ۔ یہی حالت بعینہ اعمال کی اصلاح کی ہے اور مختلف لوگوں کیلئے مختلف علاجوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے، بعض کیلئے قوت ارادی پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے، بعض کیلئے قوت عمل پیدا کرنا اور بعض کیلئے ایسی صورت میں جب وہ بوجھ زیادہ ہو اور ان کی طاقت برداشت سے باہر ہو بیرونی مدد کی ضرورت ہوتی ہے جیسے سومن بوجھ اگر کسی کے سامنے پڑا ہوا ہو اور وہ اٹھانا چاہے تو اس کیلئے کوئی قوت ارادی یا کوئی علم کام نہیں دے سکتا بلکہ باوجود قوت ارادی رکھنے کے اور باوجود یہ جاننے کے کہ یہ سومن ہے وہ اسے ہلا بھی نہیں سکے گا۔ میں سیر کے متعلق تو جب اسے معلوم ہوگا کہ یہ ہیں سیر ہے میں غلطی سے دس سیر سمجھتا رہا تو وہ اسے اٹھا لے گا کیونکہ میں سیر اٹھانے کی طاقت اس کے اندر موجود تھی ۔ یا ایک انسان کے اند ر قوت ارادی موجود ہے لیکن وہ اس سے کام نہیں لیتا تو اگر کسی دوسرے وقت وہ اپنی قوت ارادی سے کام لینا شروع کر دے تو وہ اسے فائدہ دے سکتی ہے۔ جیسے فرض کرو ایک بڑھیا عورت ہے جس کا ایک ہی بیٹا ہے جو میدانِ جنگ میں چلا گیا اور تھوڑے دنوں کے بعد خبر آئی کہ وہ مر گیا ہے۔ یہ بڑھیا عورت کسی دوسرے وقت بیمار پڑ جاتی ہے اور اپنے علاج کیلئے کوئی کوشش نہیں کرتی کیونکہ وہ کہتی ہے میرا اب