خطبات محمود (جلد 17) — Page 448
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۳۹ سال ۱۹۳۶ء گا اگر مر گئے تو دنیا کے دھندوں سے جان چھوٹ جائے گی ۔ لیکن اگر کوئی شخص ہمت والا ہے مشکلات پر غالب آنے کی کوشش کرتا ہے اور کمر ہمت تو ڑ کر نہیں بیٹھ جاتا تو اسے قوت مواز نہ کہے گی پچاس فیصدی موت بھی تم کیوں قبول کرتے ہوا سے مت کھاؤ خواہ تمہیں کتنا ہی انعام ملنے کی لالچ دلائی جائے۔ غرض قوت مواز نہ انسان کو ہوشیار کرتی ہے اور وہی عدم علم کی وجہ سے اسے غانم غافل کرتی چنانچہ ایک ہے اور پھر اسی عدم علم کی وجہ سے یا صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے گناہ صادر ہوتے ہیں ۔ چنانہ بچہ جب ایسے لوگوں میں پرورش پاتا ہے جو گناہ کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں جن کی مجلسوں میں ہر وقت یہ ذکر ہوتا رہتا ہے کہ (1) جھوٹ کے بغیر تو دنیا میں گزارہ نہیں ہو سکتا (۲) جھوٹ ہی ہے جو تمام ترقیات کی کلید ہے (۳) آجکل بھلا کون سچ بولتا ہے (۴) اس زمانہ میں تو جھوٹ بولے بغیر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی تو ایسے فقرے سن سن کر اس کا علم صرف اسی حد تک محدود رہتا ہے کہ جھوٹ بولنا ایسی بری بات نہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بڑے ہو کر جہاں اسے جھوٹ بولنے کا موقع ملے گا اور اپنی قوت موازنہ سے وہ فیصلہ چاہے گا کہ قوتِ موازنہ فوراً اسے کہہ دے گی کہ خطرہ زیادہ ہے جھوٹ بول لو اس میں حرج ہی کیا ہے ۔ یا مثلاً غیبت ہے وہ اپنے ارد گرد جب تمام لوگوں کو غیبت کرتے دیکھتا ہے تو بڑا ہو کر جب اس کے سامنے بھی کوئی غیبت کا موقع آتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں نے غیبت کی تو مجھے فائدہ پہنچ جائے گا تو قوت موازنہ اسے کہہ دیتی ہے کہ سارے ہی غیبت کرتے ہیں اگر تم بھی غیبت کر لو تو کیا حرج ہے گو یہ گناہ تو ہے مگر کوئی اتنا بڑا گناہ نہیں ۔ یہی وہ امر ہے جس کے متعلق میں نے بتایا تھا کہ اصلاح اعمال میں ایک خطرناک روک یہ ہے کہ کہا جاتا ہے بعض گناہ بڑے ہیں اور بعض چھوٹے اس کی وجہ سے بعض گناہوں کو لوگ نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ کہتے ہیں یہ تو چھوٹے ہیں ان کے کر لینے میں کیا حرج ہے۔ اس خیال کا اثر یہ ہوتا ہے کہ گو قوت مواز نہ موجود ہوتی ہے مگر وہ اس غلط علم کی وجہ سے جو اُس نے ماحول سے حاصل کیا تھا انہیں اتنی طاقت نہیں دیتی جس طاقت کے نتیجہ میں وہ گناہ پر غالب آسکیں ۔ جیسے میں نے بتایا ہے کہ اگر ایک چیز دس سیر یا میں سیروزنی ہو اور آدمی اسے پانچ چھ سیروزن کی سمجھ رہا ہو تو خواہ اس میں دومن بوجھ اُٹھانے کی طاقت ہو پہلی دفعہ اس کے ہاتھ کو جھٹکا محسوس ہوگا اور وہ اسے نہ اُٹھا سکے