خطبات محمود (جلد 17) — Page 417
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۰۸ سال ۱۹۳۶ء دھڑام سے پانی میں چلا جاتا ہے۔ اسی طرح جب خدا تعالیٰ آسمان سے اپنا روحانی پانی اُتارتا اور اس کی تائید میں دنیا میں ایک ہوا چلا دیتا ہے تو دنیوی شان و شوکت کی بڑی بڑی عمارتیں اسی طرح گر جاتی ہیں جس طرح دریا کے کنارے پانی کے زور سے گر جاتے ہیں۔ پس تقویٰ کرو، طہارت اختیار کرو اور سچائی سے کام لو۔ اب بھی میری نصیحت یہی ہے کہ جو شخص سچا احمدی ہے اگر اس سے کوئی غلطی ہوئی ہے تو وہ عَلَى الْإِعْلان اس کا اقرار کرے ۔ اگر وہ اشتعال میں آ کر مار بیٹھا ہے یا دوسرے کے مارنے پر اس نے مارا ہے تو وہ یاد رکھے کہ خدا کے غضب سے زیادہ حکومت کا غضب نہیں ہو سکتا ۔ جہنم کی چھوٹی سے چھوٹی سزا بھی دنیا کی بڑی سے بڑی سزا سے زیادہ ہیبت ناک ہے ۔ یہاں کے جیل خانوں میں ایسے جرائم کی پاداش میں نو مہینے سال یا دو سال یا تین سال قید رکھا جا سکتا ہے لیکن جہنم کی قید اس سے بہت زیادہ لمبی اور بہت زیادہ تکلیف دہ ہے۔ پس سچائی تمہارا ہتھیار ہونا چاہئے اور راستی پر تمہارے ہر کام کی بنیاد ہونی چاہئے ۔ وہ شخص جو چاہتا ہے کہ خدا کو خوش کرے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سچا پیرو کار کہلائے وہ اقرار کرے کہ وہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ مت سمجھو کہ سچ بولنے کی وجہ سے تم قید ہو جاؤ گے اگر سچ کی وجہ سے تم قید ہوتے ہو تو خدا تعالیٰ کی رحمتیں تم پر نازل ہوں گی ۔ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قید نہیں کئے گئے؟ کیا انہیں مارا اور بیٹا نہیں گیا اور کیا حضرت مسیح علیہ السلام کو دشمنوں نے صلیب پر نہیں لڑکا یا ؟ پھر تمہیں سچ کی وجہ سے قید ہونے میں کیا ڈر ہے۔ احمدیت کا نشان ہمیشہ یہ ہونا چاہئے کہ جو احمدی ہو وہ سچ بولتا ہے اس سے دونوں فائدے ہوں گے۔ خدا تعالیٰ بھی خوش ہوگا اور آئندہ کیلئے کمزور طبع لوگ ایسی حرکات سے بھی اجتناب کریں گے کیونکہ وہ کہیں گے کہ اگر ہم نے کوئی خلاف اخلاق یا خلاف قانون حرکت کی تو ہم سے سیچ بلوایا جائے گا پھر کیوں نہ ہم اس حرکت کا ارتکاب ہی چھوڑ دیں۔ پس سچائی پر قائم رہو اور اپنے نفس کو یہ کہہ کر دھو کا مت دو کہ جھوٹ سے فتح ہو سکتی ہے۔ انگریز کی سزا کوئی سزا نہیں سزا وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُترے۔ اسی طرح انگریز کا ساتھ کوئی ساتھ نہیں بلکہ ساتھ وہ ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔ پس بندوں کی طرف سے اپنی نگاہیں ہٹا لو اور خدا تعالیٰ کی طرف بلند کرو۔