خطبات محمود (جلد 17) — Page 415
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۴۰۶ سال ۱۹۳۶ء پس میں یہ نہیں کہتا کہ اپنا حق نہ لو تم اپنے حقوق لو اور ان حقوق کے لینے میں تمہارے ساتھ ہوں میں جو کچھ کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ پہلے خدا کا حق لے لو بعد میں دنیا سے اپنا حق لو۔ اگر میں اُس وقت آپ لوگوں کے ساتھ ہوتا تو میں تو جب پولیس نے مردہ بچے کو دفن کرنے میں مزاحمت کی تھی یہی کہتا کہ مردہ کو دفن کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ پولیس پر چھوڑ دو اور مردہ بچے اور پولیس کا فوٹو لے کر واپس آجاؤ۔ جو شخص مُردہ کی ہتک کرتا ہے وہ خدا تعالیٰ کی لعنت اپنے اوپر لیتا ہے۔ پس تم لعنتیں ان پر پڑنے دیتے اور خود واپس آجاتے آخر وہ ہمارے ہی بھائی بہن تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں سخت سے سخت مصائب برداشت کئے ۔ بہار میں ہی ایک احمدی عورت فوت ہو گئی اُس کی لاش احمدی دفن کر کے آئے تو لوگوں نے رات کو لاش نکال کر کتوں کے آگے ڈال دی ۔ تو وہ تکلیفیں جو پہلوں پر گزریں یا ہماری جماعت کے دوسرے بھائیوں پر گزریں ہم پر بھی گزرنی ضروری ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم ان میں صبر سے کام لیں ۔ تمہیں چاہئے تھا کہ تم ان تمام واقعات کا فوٹو لے لیتے اور پھر دنیا میں شائع کر دیتے کہ پنجاب کی پولیس ایک احمدی مردہ کے دفن کرنے میں روک بن رہی ہے۔ یہ تمہارا اتنا سخت بدلہ ہوتا کہ حکام تمہاری منتیں کرتے اور تمہارے آگے ہاتھ جوڑتے پھرتے اور کہتے یہ فوٹو دنیا میں نہ پھیلاؤ مگر تم نے ایسا نہیں کیا۔ کیا میں نے بار ہا نہیں کہا کہ ایسے موقعوں پر فوٹو لے لیا کر ولیکن محکموں کے ذمہ دار ارکان کے کانوں میں تو روئی پڑی ہوئی ہے تمہارے کانوں میں بھی روئی پڑی ہوئی ہے میری باتیں ایک کان سے سُنتے ہو اور دوسرے سے نکال دیتے ہو۔ میں نے سنا ہے بعض فوٹو لئے گئے ہیں مگر سوال ایک یا دو کا نہیں بلکہ تمہیں ان کی ہر حرکت کا فوٹو لینا چاہئے تھا۔ ہر کا کے کفارہ کے طور پر میں ہدایت کرتا ہوں کہ پانچ چھ سو روپیہ میں سنیما کی مشین مل جاتی ہے جس سے متحرک تصاویر اتاری جاتی ہیں ۔ پس فوراً ایک متحرک تصاویر اتارنے کا آلہ لے لیا جائے اور جہاں کوئی ایسا واقعہ پیش آئے فورا متحرک تصاویر کی ایک فلم اُتار لی جائے اور پھر بعد میں اُس کو دنیا کے سامنے شائع کر دیا جائے اور بتا دیا جائے کہ واقعات کیا تھے اور حکومت کے ایجنٹ کیا ظاہر کر رہے ہیں ۔ اگر ایسا کیمرہ آپ لوگوں کے پاس ہوتا تو مزاحمت کرنے والوں کی ہر حرکت محفوظ رکھی جا سکتی تھی ۔ جو تصویریں لی گئی ہیں وہ ابھی میں نے نہیں دیکھیں معلوم نہیں وہ ٹھیک