خطبات محمود (جلد 17) — Page 366
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۵۷ سال ۱۹۳۶ء دے تو اس پر لبیک کہے جب تک خلیفہ وقت کی آواز اُسے نہ روک دے۔ نیشنل لیگ کو ر کا ہر ممبر اپنے عہد اور اقرار کی وجہ سے اس بات کا پابند اور جوابدہ ہے ۔ پس نیشنل لیگ کور کے ممبر لیگ کی ہدایت کے ماتحت قادیان سے بھی اور باہر سے بھی وہاں گئے اور پابند تھے کہ جاتے ۔ اس کی ذمہ داری نیشنل لیگ پر ڈالنے سے میرا یہ مطلب نہیں کہ اس کا یہ فعل بُرا تھا بلکہ یہ بالکل جائز فعل تھا اور اس میں کسی قسم کی قباحت نہ تھی اور ابتدا میں میں نے نیشنل لیگ کو جو ہدایات دی تھیں وہ ان کے عین مطابق تھا بالکل ٹھیک اور درست تھا مگر پھر بھی اسے جماعت احمدیہ کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا ۔ بلکہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی معمار، نجار یا لوہار احمدی اپنے ہم پیشوں کی کسی مجلس میں شریک ہو تو اس مجلس کا فیصلہ جماعت احمد یہ کا فیصلہ نہیں کہلا سکتا گو اس کی شمولیت ہماری خواہش کے مطابق ہی کیوں نہ ہو۔ محض شمولیت سے اس کا فعل ساری جماعت کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا کیونکہ بعض اوقات اچھے افعال کی جزئیات میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے مثلاً کسی کام کی تفصیلات اگر میں سوچوں تو وہ اس سے مختلف ہونگی جو لیگ سوچے ۔ اس لئے اس کا فیصلہ باوجود پسندیدہ ہونے کے میری طرف منسوب نہیں ہو سکتا ۔ بالکل ممکن ہے کہ وہی فعل اگر میں کرتا تو اس کی تفصیلات بالکل اور ہوتیں ۔ پس اول تو اس کی ذمہ داری جماعت احمدیہ پر عائد نہیں ہو سکتی باقی رہا یہ سوال کہ وہ فعل سوال کرنے والے دوست کے نزدیک اتنا برا اور بھیانک تھا کہ جماعت کو اس سے روکنا چاہئے تھا یہ بات میری عقل سے بالا ہے ۔ استقبال ایک اعزازی چیز ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس بعض انگریز آتے اور میں نے خود دیکھا ہے کہ آپ میل دو دو میل سے ان کو چھوڑنے کیلئے چلے جاتے ۔ بعض صلى الله عروس روایات میں ہے کہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک یہودی مہمان آیا اور آپ کے بستر پر رات کو پاخانہ کر کے صبح چلا گیا۔ اتفاقاً رستہ میں اسے یاد آیا کہ کوئی چیز وہاں بھول آیا ہوں اُسے لینے کیلئے وہ واپس آیا تو دیکھا کہ رسول کریم ﷺ کسی خادمہ کو ساتھ لے کر اُسے دھور ہے صلى الله علوسم تھے۔ یہ دیکھ کر وہ دل میں سخت شرمندہ ہوا کہ میں نے کیا سلوک کیا تھا اور یہ میرا کس قدر اعزاز کرتے ہیں۔ تو کسی کا اعزاز کرنے کے یہ معنے نہیں ہوا کرتے کہ اس کے خیالات سے کلی اتفاق