خطبات محمود (جلد 17) — Page 354
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۴۵ سال ۱۹۳۶ء خطر ناک گناہ ہے حالانکہ کنچنیوں کا سب سے بڑا گناہ عصمت فروشی ہے اور ایک قاتل کا سب سے بڑا گناہ قتل ہے مگر وہ ان گناہوں کا عادی ہونے کی وجہ سے انہیں تو معمولی سمجھتے ہیں لیکن سور کا گوشت کھانا بدترین گناہ سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح کئی ایسے ملیں گے جو جھوٹ بولنے والے ہوں گے لیکن قتل نہیں کریں گے ۔ وہ قاتل کو نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے لیکن جھوٹ سے جب انہیں منع کیا جائے گا تو کہہ دیں گے کہ جھوٹ کے بغیر گزارہ نہیں ہوتا۔ پھر کئی ہیں جو چغلخوری کی عادت رکھتے ہیں وہ جھوٹ سے نفرت رکھتے ہیں لیکن چغلخوری کی کوئی پرواہ نہیں کرتے ۔ اس کے مقابلہ میں جو جھوٹ بولنے کی عادت رکھتا ہے اور چغلخوری سے محفوظ ہے وہ چغلخور سے سخت نفرت رکھے گا۔ اگر کوئی شخص اس کے پاس کسی کی چغلی کرے گا تو وہ آئندہ کیلئے اس کی شکل تک دیکھنے کیلئے تیار نہیں ہوگا اور اس سے شدید نفرت کرے گا لیکن وہ اس کے سچ کو تو ادھر سے اُدھر بیان کرنے پر ناراض ہوگا اور خود جھوٹ بول لینا اسے معمولی عیب دکھائی دے گا۔ پس چونکہ ہر انسان اپنی فطرت، اپنی عادت اور اپنے ماحول کے مطابق کسی بدی کو بڑا اور کسی کو چھوٹا سمجھتا ہے اس لئے ہر بدی کا بیج دنیا میں موجود رہتا ہے ۔ گویا یہ منڈی ہمیشہ ہی پر رونق رہتی ہے اس میں کئی ایسے مل جائیں گے جو قتل کو معمولی بدی سمجھ کر لوگوں کو قتل کرنے والے ہوں گے، کئی ایسے مل جائیں گے جو غیبت کو معمولی بدی سمجھ کر لوگوں کی غیبت کرنے والے ہوں گے، کئی ایسے مل جائیں گے جو جھوٹ کو معمولی بدی سمجھ کر لوگوں کے متعلق جھوٹ بولنے والے ہوں گے، کئی ایسے مل جائیں گے جو دوسرے کے مال کھانے کو معمولی بدی سمجھ کر اپنے بھائیوں کا مال کھانے والے ہوں گے، کئی ایسے مل جائیں گے جو خیانت کو معمولی بدی سمجھ کر خائن ہوں گے، کئی فسق اور فجور کو معمولی بدی سمجھ کر فاسق اور فاجر نظر آئیں گے غرض ہر گناہ کی کاشت کرنے والے لوگ دنیا میں موجود ہوں گے، کوئی کسی گناہ کو چھوٹا قرار دے رہا ہوگا اور کوئی کسی کو اور اسی طرح ہر گناہ کا بیج دنیا میں محفوظ چلا آئے گا۔ ہاں ایک مثال جو سور کے گوشت کی میں نے دی ہے اس کی استثناء ر ہے گی کیونکہ کروڑوں میں سے ایک مسلمان بھی ایسا نہیں ہوگا جو سور کا گوشت کھاتا ہو بلکہ مسلمان سور کے قریب بھی نہیں پھٹکتا الا مَا شَاءَ اللهُ - چند ایسے لوگوں کو جو مغرب میں رہنے کی وجہ سے اس جذبہ کو کھو چکے ہوں مگر وہ اَلنَّادِرُ كَالْمَعْدُومِ کے طور پر ہیں ۔ تو جس گناہ کو سارے لوگ ہی بڑا گناہ