خطبات محمود (جلد 17) — Page 350
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۴۱ سال ۱۹۳۶ء وقت بھی اُس نے اپنی تہہ بند لٹکائی ہوئی تھی اور ٹخنوں سے نیچے پڑ رہی تھی ۔ آپ فرماتے ہیں جس وقت اُس عزیز نے اس رئیس کو اس حالت میں دیکھا تو چونکہ وہ نیا نیا علم حدیث پڑھ کر آیا تھا اس نے اپنی مسواک اُٹھائی اور اس رئیس کے ٹخنے پر مار کر کہا فِی النَّارِ یہ حصہ دوزخ میں جائے گا کیونکہ حدیثوں میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص تکبر سے اپنا ازار لمبار کھے وہ دوزخ میں جاتا ہے سے ۔ وہ رئیس مسلمان تھا مگر اُسے ہمیشہ اپنی عزت کا خیال رہتا تھا اور اسی عزت کے خیال سے وہ تہہ بند لٹکا کر باندھا کرتا۔ جب اُس شخص نے ایک بھری مجلس میں اُس رئیس کے ٹخنے پر مسواک مار کر کہا فِي النَّارِ تو فوراً اُس رئیس پر اپنی عزت کا خیال غالب آ گیا اور اُس نے نہایت غصے سے کہا کہ تجھے کس بیوقوف نے بتایا ہے کہ میں مسلمان ہوں میں ہرگز مسلمان نہیں ۔ گویا صلى الله محمد ﷺ کا اگر ایسا حکم ہے تو وہ مسلمانوں پر چل سکتا ہے مجھ پر نہیں چل سکتا ۔ اب تہہ بند کے ایک انچ او پر یا ایک انچ نیچے ہونے میں کیا رکھا ہے مگر ایسے بیسیوں لوگ مل جائیں گے جنہیں اگر یہ کہو کہ تم ایک ہزار مربع لے لو مگر تہہ بند نیچے نہ باندھو تو وہ زمین چھوڑنے کیلئے تیار ہو جائیں گے مگر تہہ بند کا لڑکا نا نہیں چھوڑیں گے ۔ بلکہ اگر انہیں کہا جائے کہ تمہیں سر کا خطاب مل جائے گا بشرطیکہ تہہ بند لٹکا کر نہ چلو تو وہ سر کا خطاب چھوڑنے کیلئے تیار ہو جائیں گے لیکن اس بات کے چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ہوں گے کہ تہہ بند ایک انچ اوپر کر کے باندھیں ۔ پس ایسے لوگوں کا سب سے بڑا گناہ تہہ بند کو نیچے لٹکانا ہوگا نہ کچھ اور ۔ صلى اسی طرح ایک زمیندار جب یہ سنتا ہے کہ کسی شخص نے رسول کریم ﷺ کو گالی دی تو اسے اپنی بیویوں کی محبت، اپنے بچوں کی محبت ، اپنے خاندان کی محبت اور اپنی جان کی محبت بالکل فراموش ہو جاتی ہے۔ وہ خاموشی سے ایک گنڈا سہ یا چھرا لیتا ہے اور گھر سے نکل جاتا ہے اور اس گنڈاسہ سے شخص کی تلاش شروع کر دیتا ہے جس نے رسول کریم ﷺ کو گالی دی ہوتی ہے، پھر جب وہ مل جاتا ہے تو اُسے قتل کر دیتا ہے اور جب خود پکڑا جاتا ہے تو اللہ اکبر کا نعرہ لگاتا ہوا پھانسی کے تختہ پر چڑھ جاتا ہے اور ذرا بھی خیال نہیں کرتا کہ اُس نے کوئی قربانی کی ہے۔ گویا وہ اپنی جان اور اپنا مال اور اپنی ہر چیز رسول کریم ﷺ پر قربان کرنے کیلئے تیار ہو جائے گا لیکن باوجود اس کے اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ بنیے کے پاس جاتا اور اُس سے سُو د لیتا ہے بلکہ مرنے کے بعد بھی الله وس