خطبات محمود (جلد 17) — Page 346
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۳۳۷ سال ۱۹۳۶ء احمدیت کو صحیح معنوں میں سمجھتے ہیں ، اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا فرستادہ اور مقدس رسول سمجھتے ہیں تو ہمیں اس معمہ کو پورے طور پر حل کرنا ہو گا ورنہ اس کے بغیر ہم کسی قسم کی برکت اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے امیدوار نہیں ہو سکتے ۔ ابھی تو ہم اُس شخص کی طرح پریشان پھر رہے ہیں جو بغیر سواری اور کسی ساتھی کے ایک مہیب اور پُر خطر جنگل میں بہک جائے اور اُسے اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کا راستہ نہ ملے ۔ ہم بھی حیران و پریشان ایک ایسی زمین میں پھر رہے ہیں جس میں نہ کوئی انیس ہے نہ جلیں ، نہ سواری ہے نہ ٹھہرنے کا مقام ایسی حالت کے ہوتے ہوئے خالی عقیدوں کو ہم نے کیا کرنا ہے اور ان سے دنیا میں کیا تغیر ہو سکتا ہے۔ حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ساتھ لوگوں کی اصلاح کریں اور ہٹلر یا مسولینی کی طرح جو شخص ہمارے حکموں کی تعمیل نہ کرے اُسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری باتیں سننے اور اس پر عمل کرنے کیلئے تیار نہ ہوا سے عبرتناک سزا دیں۔ اگر حکومت پاس ہوتی تو ہم ایک دن کے اندر اندر یہ کام کر لیتے اور دو ایسا نہ چڑھنے دیتے جس میں ہمارے اندر یہ نقائص موجود ہوتے ۔ اگر آج حکومت ہمیں مل جائے اور ہم حکم نافذ کر دیں کہ ہر وہ شخص جو باجماعت نماز نہیں پڑھے گا اسے سات سال قید سخت کی سزا دی جائے گی تو کوئی ہے جو نماز با جماعت نہ پڑھے گا مگر ہمارے پاس جو سزا ہے کہ ہم کہتے ہیں جو شخص با جماعت نماز نہیں پڑھے گا اللہ تعالیٰ اُس پر ناراض ہوگا مگر آجکل خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی کون پروا کرتا ہے۔ لوگ انگریز کی ناراضگی سے ڈر جائیں گے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ فلاں کام گئے کے نتیجہ میں خدا تعالٰی ناراض ہو جائے گا تو وہ اس کی پروا نہیں کریں گے۔ اگر آج ہمارے پاس حکومت ہو اور ہم یہی اعلان کر دیں کہ جو شخص اپنی لڑکی کو ورثہ دینے کیلئے تیار نہیں اس کی جائیداد کو ضبط کر لیا جائے تو کیا ہندوستان میں ایک شخص بھی ایسا رہ جائے جولڑکیوں کو ورثہ نہ دے۔ ہر شخص کہے گا کہ میں تو مدت سے یہ سوچ رہا تھا کہ کسی طرح لڑکی کو ورثہ دوں ۔ غرض اگر ہمارے پاس حکومت ہوتی تو صبح سے شام نہیں ہونے پائے گی اور ساری اصلاحات آپ ہی آپ ہو جائیں گی لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے پاس حکومت نہیں اس لئے ہم کو یہ سوال کسی اور طریق سے حل کرنا پڑے گا۔ یا تو حکومت کے کسی ایسے پہلو کو تلاش کرنا پڑے گا جو انگریزی حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے بھی قائم کیا جا سکتا ہو یا ایسے ذرائع کی تلاش کرنی پڑے گی جو بغیر حکومت کے ہمیں کام دے