خطبات محمود (جلد 17) — Page 304
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۹۵ سال ۱۹۳۶ء کی ظاہری تدبیریں انہیں کوئی فائدہ پہنچاسکیں گی بلکہ ذلت اور شکست انہیں نصیب ہوگی ۔ اسی طرح میں بیرونی دشمنوں سے بھی کہتا ہوں کہ وہ بھی بے شک زور لگا لیں اور سلسلہ احمدیہ کو مٹانے کیلئے انتہائی جدو جہد صرف کر لیں وہ بھی دیکھیں گے کہ ناکامی و نامرادی ان کے حصہ میں آئے گی اور سلسلہ احمدیہ کو وہ ذرہ بھر بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ میں نے اس وقت وہ بات پیش کر دی ہے جس سے جھوٹ اور سچ کا پرکھنا بالکل آسان ہو جاتا ہے۔ میرا مستقبل میرے ہاتھ میں نہیں بلکہ میرے خدا کے ہاتھ میں ہے۔ میں اپنی کمزوریوں کو بھی سمجھتا ہوں ، اپنی کوتاہیوں کو بھی جانتا ہوں مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جس کام کو لے کر میں کھڑا ہوا ہوں اس کے کرنے میں میں نے کبھی کوتاہی نہیں کی ، میں نے اسلام سے کبھی غداری نہیں کی ، میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی احساس میرے دل میں کام کرتا رہا ہے کہ احمدیت اور اسلام کی ترقی کیلئے اپنی ہر چیز قربان کر دینی چاہئے ، یہ کام میں نے ہمیشہ کیا ، ہمیشہ کرتا ہوں اور انشاء اللہ ہمیشہ کرتا چلا جاؤں گا۔ میں جانتا ہوں اس مقصد کی برکت کو اور میں جانتا ہوں کہ اس وابستگی کی وجہ سے یہ ممکن ہی نہیں کہ میرا کوئی دشمن مجھ پر غالب آ سکے ۔ پس خواہ جھوٹ کے ذریعہ ہمارے بیرونی دشمن ہمیں نقصان پہنچانا چاہیں اور خواہ جھوٹ کے ذریعہ اندرونی منافق ہمیں نقصان پہنچانا چاہیں دونوں کو خدا تعالیٰ نا کام رکھے گا اور کبھی ان کی آرزوئیں پوری نہیں کرے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ ہمارا مخالف جھوٹ بولنے والا ہے پھر ہم کیونکر سمجھ لیں کہ وہ سچائی پر غالب آ سکتا ہم آسکا ہے۔ یہ بزدل اور منافق ہمیشہ خفیہ منصوبوں سے کام لیتے ہیں مگر جن کا حوصلہ اتنا پست ہو کہ وہ اس انسان کے سامنے بھی اپنا مافی الضمیر بیان نہ کر سکیں جسے خدا تعالیٰ نے نہ تلوار دی ہے نہ ظاہری حکومت ، انہوں نے دنیا میں اور کیا کام کرنا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جو منافقین تھے وہ تو باوجود تلوار کا زمانہ ہونے کے بعض دفعہ بول پڑتے تھے مگر آج کل کے منافق تو منافقوں کے بھی منافق ہیں۔ جیسے کہتے ہیں ” گوہ درگوہ کتے کا گوہ ۔ کتا پاخانہ کھاتا ہے اور کتے کا پاخانہ تو پاخانے کا پاخانہ ہوتا ہے۔ ایسے ذلیل اور کا ناپاک وجودوں کو کب خدا تعالیٰ اپنی مقدس فتح سے برکت دے سکتا ہے۔ ان کا دنیا میں بھی منہ کالا ہوگا اور اگلے جہان میں بھی منہ کالا ہوگا۔