خطبات محمود (جلد 17) — Page 300
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۹۱ سال ۱۹۳۶ء رکھنے کا سوال تو دور کا ہے اس سے زیادہ نمایاں ایک اور بات موجود ہے اور وہ یہ کہ میرا بیٹا انگلستان میں انگریزی کی تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ نمایاں مثال یہ ہے کہ میں نے خود انگریزی پڑھنے کی کوشش کی ہے اور انگریزی زبان کا لٹریچر منگوا کر پڑھتا رہتا ہوں لیکن اس کی وجہ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں یہ ہے کہ مغربیت کسی مٹی کے ڈھیر کا نام نہیں جسے پیر مار کر ہم نے مٹانا ہے بلکہ مغربیت ان آدمیوں کی طرزِ معاشرت اور طرز تمدن کا نام ہے جو انگریزی بولتے اور فرانسیسی وغیرہ زبانیں بھی استعمال میں لاتے ہیں ۔ اس مغربیت کو کس طرح مٹایا جا سکتا ہے جب تک ہم خود انہی کی زبانوں میں مہارت پیدا کر کے انہیں اس کے نقائص نہ بتائیں اور انہیں اسلام کی تعلیم نہ پہنچائیں۔ پس جب میں نے کہا تھا کہ مغربیت کو کچل دو تو سوچنا چاہئے کہ میرا اس سے کیا مطلب تھا ۔ ا ۔ اگر تو میرا یہ مطلب تھا کہ مغربیت کے دلدادوں کو زہر دے کر ۔ ے کر مار دو تو پھر تو سوال ہو سکتا تھا کہ جب انہیں مارنا ہے تو پھر ان کی زبانیں سیکھنے کا کیا مطلب ۔ اور اگر میرا مطلب یہ تھا کہ اہلِ مغرب کو مسلمان بنا کر مغربیت کو کچلو تو پھر یہ فرض کس طرح ادا ہو سکتا ہے جب تک ہمارے مرد اور ہماری عورتیں انگریزی زبان نہ سیکھیں اور ان تک اپنے خیالات پہنچانے کے قابل نہ بن جائیں ۔ میں نے تو کئی دفعہ اس بات پر زور دیا ہے کہ عورتوں کی تعلیم میں یہ نقص ہے بلکہ لڑکوں کی تعلیم میں بھی یہ نقص تھا جس کا انگریزی کے متعلق تو ازالہ ہو گیا ہے مگر عربی کے متعلق ابھی وہ نقص موجود ہے کہ ہمارے ہاں صرف لفظ رٹائے جاتے ہیں اس زبان میں بولنا نہیں سکھایا جاتا۔ بڑے بڑے مولوی بھی جب عربی میں بات کریں گے تو رہ جائیں گے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل بے شک ہماری جماعت میں وہ لوگ بھی ہیں جو عربی کے ماہر ہیں اور کچھ ہماری جماعت کا وہ حصہ ہے جو عربی ممالک میں رہنے کی وجہ سے عربی زبان میں اچھی طرح گفتگو کر سکتا ہے لیکن باقی مسلمانوں میں سے بڑے بڑے تعلیم یافتہ اشخاص بھی نعم اور لا سے آگے نہیں چل سکتے اور نہ اپنے خیالات کا عربی میں اظہار کر سکتے ہیں ۔ سر مارتے چلے جائیں گے اور کسی بات پر کا اور کسی پر نعم کہہ دیں گے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکیں گے حالانکہ وہ عالم ہوتے ہیں اور واقعہ میں بڑے بڑے عالم ہوتے ہیں ۔ اگر وہ کسی ادب کی کتاب پر حاشیہ لکھنے بیٹھیں تو ایسا ز بر دست حاشیہ لکھیں کہ عربوں اور مصریوں کو حیران کر دیں گے لیکن چونکہ انہیں عربی میں باتیں کرنے کی مشق نہیں ہوتی