خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 293

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۸۴ سال ۱۹۳۶ء جب ملتے ہیں علیحدگی میں ملتے ہیں اُس وقت اور کوئی پاس نہیں ہوتا۔ ہاں اگر مشتر کہ امور پر گفتگو ہو تو اُس وقت جماعت کے اور دوست بھی ہوتے ہیں اور چوہدری صاحب بھی ۔ پس ایسی پرائیویٹ گفتگو کی خبر ” احسان یا مجاہد کو کس طرح ہو سکتی ہے سوائے اس کے کہ میں یہ سمجھوں کہ احسان اور مجاہد کا نامہ نگار اس وقت سنپولیا بنا ہوا کسی بدر رو میں بیٹھا تھا یا مکھی بن کر کرسی وو پر بیٹھا تھا یا چھپکلی بن کر روشندان میں موجود تھا اور اس نے ہماری باتیں سن کر احسان اور مجاہد میں شائع کرادیں ۔ پس اگر کوئی ایسا طلسم ان کے ہاتھ میں آگیا ہے تو یہ اور بات ہے۔ ورنہ سوائے اس کے کیا سمجھا جاسکتا ہے کہ یہ شیطان کے چیلے ہیں جو ساری دنیا کو الو بنا رہے ہیں ۔ ان جھوٹوں کا صرف ایک علاج ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ اجرت ہم دینے کیلئے تیار ہیں مجاہد اور احسان والے جب اس قسم کی کوئی خبر شائع کریں تو اس کے آخر میں یہ لکھ دیا کریں۔ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ اس طرح جتنی رپورٹیں وہ ہمارے متعلق شائع کریں ان کے بعد لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ کے الفاظ بھی لکھ دیا کریں اور ان الفاظ کی قیمت مناسب اشتہاری ریٹ پر وہ ہم سے لے لیا کریں ۔ میری طرف سے انہیں کھلی اجازت ہے کہ وہ ان رپورٹوں اور اطلاعات کو درج کرنے کے بعد ہر رپورٹ کے نیچے لکھ دیا کریں کہ جماعت احمدیہ کا جواب اس رپورٹ کے متعلق یہ ہے لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ کہ اور صرف اتنے حصے کی اُجرت کا بل بنا کر مجھے بھیج دیا کریں میں انہیں روپیہ ادا کر دوں گا ۔ اس صورت میں ہمارے نزدیک یہی جواب کافی ہو جائے گا اور پھر یہ بھی فائدہ ہوگا کہ انہیں پیسے مل جائیں گے ۔ غرض اس طرح انہیں خبر کی خبر مل جا۔ اخبار بھی دلچسپ رہے گا اور ہم سے پیسے بھی وصول کر سکیں گے جس کے ذریعہ ممکن ہے وہ اپنے نامہ نگاروں کا گھر بھر سکیں ۔ مخالفین کے ان جھوٹوں کے ساتھ کچھ منافق بھی کھڑے ہو گئے ہیں اور یہ بھی ایک جماعت کی پیدا ہو گئی ہے جن میں سے تو کچھ قادیان میں رہ کر اور کچھ اخباروں والوں سے مل کر فتنہ و فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ ابھی تین چار دن ہوئے ایک دوست نے ایک خط بھیجا ہے جس میں لکھا ہے کہ بعض بڑے بڑے بزرگ کہتے ہیں ( نہ معلوم وہ کون سے بزرگ ہیں ) کہ