خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 257

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۴۸ سال ۱۹۳۶ء صلى الله کافی سبب ہے۔ ایسے ہی حالات میں رسول کریم ﷺ نے جس محنت اور مشقت کا ثبوت دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے آپ کے متبعین میں سے کسی کو یہ جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ کہے کہ ملیریا کا ہمارے ملک میں پایا جانا ہمارے ملک کی سستی اور غفلت کیلئے کافی عذر ہے ۔ ہم جب رسول کریم ﷺ کی زندگی دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے آپ آدھی رات کے بعد اٹھ بیٹھتے اور عبادت شروع کر دیتے ہیں ۔ اسی عبادت کے دوران میں فجر کی اذان : اذان ہوتی ہے اور آپ کو نماز کیلئے اطلاع ملتی ہے رسول کریم ﷺ نماز پڑھانے چلے جاتے ہیں ۔ نماز پڑھا کر آپ مسجد میں ہی بیٹھ جاتے ہیں اور فرماتے ہیں جس کو کوئی ضرورت اور احتیاج ہو وہ بیان کرے۔ اس پر پہلے جن جن لوگوں کو رات کو کوئی خواب آیا ہوتا وہ بیان کرتے اور آپ تعبیریں بتاتے ، اس کے بعد جنہیں کوئی دوسری حاجتیں ہوتیں وہ آپ کے سامنے ! منے اپنی حاجات بیان کرتے اور آپ منا دیتے۔ پھر صحابہ کو آپ قرآن کی تعلیم دیتے بعض کو حفظ کراتے اور بعض کو معانی بناتے پھر مقدمات والے آجاتے ا تے اور آپ ان کے جھگڑوں کو سنتے اور فیصلہ کرتے ۔ مقدما تے۔ مقدمات سننے کے بعد ظہر کا وقت آجاتا ہے اور آپ کھانا کھانے اندر تہ اندر تشریف لے جاتے ہیں اس کے بعد ظہر کی نماز ادا کرنے کیلئے نکلتے ہیں۔ ظہر کی نماز کے بعد پھر وہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، درس و تدریس ہوتا ہے، اسلامی ضروریات پر مشورے ہوتے ہیں ، قانون کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں ، افتاء کا کام کیا جاتا ہے و نصائح کا صلى الله علوم صلى الله - مناسب مشورے اسی میں عصر کا وقت آجاتا ہے اور آپ عصر کی نماز پڑھانے کھڑے ہو جاتے ہیں پھر یا تو نصاء سلسلہ شروع ہو جاتا ہے یا فوجی مشقیں ہونے لگتی ہیں کیونکہ بالعموم عصر کے بعد رسول کریم صحابہ سے فوجی مشقیں کراتے کہیں تیراندازی ہوتی، کہیں کشتی ہوتی ، کہیں گھڑ دوڑ ہوتی اس کی طرح بالعموم ظہر سے پہلے اور اشراق کے بعد رسول کریم ﷺ بازار تشریف لے جاتے اور بھاؤ وغیرہ معلوم کرتے اور دیکھتے کہ کہیں دکاندار دھوکا تو نہیں کر رہے یا لوگ دکانداروں پر تو ظلم نہیں کر رہے اور عصر کے بعد وعظ و نصیحت کا سلسلہ شروع ہوتا یا صحابہ کو فوجی مشقیں کرائی جاتیں اور انہیں جنگ کیلئے تیار کیا جاتا۔ گویا اس وقت رسول کریم ﷺ جرنیل کے فرائض سرانجام دیتے پھر مغرب کی نماز پڑھا کر کھانا کھا کر آپ مسجد میں آجاتے اور مجلس لگ جاتی پھر عشاء تک یا تو مقدمات کے تصفیے ہوتے یا شکایات سنی جاتی ہیں یا تعلیم دی جاتی ہے اسی دوران میں عشاء کی نماز کا صلى الله