خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 234 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 234

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۲۵ سال ۱۹۳۶ء جس منافرت کو دور کرنا مقصود ہوتا ہے وہ اور بھی بڑھ جاتی ہے اور کہ اس میں بعض باتیں واقعہ میں احمدیوں کو تکلیف دینے والی ہیں اور عدالتی دماغ کے ماتحت نہیں لکھی گئیں ۔ اب اس فیصلہ کے ما تحت حکومت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ مسٹر کھوسلہ کے فیصلہ کی اشاعت سے جماعت احمد یہ کونا جائز طور پر دکھ پہنچ رہا ہے اور بلا وجہ نقصان پہنچایا جا رہا ہے ایسا دکھ اور ایسا نقصان جس کا جائز طور پر پہنچانا کسی کا حق نہیں اور ہماری پوزیشن ہائی کورٹ کے فیصلہ سے واضح تھی کہ اب لیگ والے اسے حکومت کے سامنے پیش کر کے کہہ سکتے تھے کہ پندرہ یا بیس روز ہوئے ہم آپ کو توجہ دلا چکے ہیں ہائیکورٹ کا فیصلہ آپ کے سامنے ہے ہم قانون شکنی نہیں کرنا چاہتے ہمارا دشمن قانون شکنی کر رہا ہے اور اس فیصلہ کو شائع کر رہا ہے جو ہائی کورٹ سے رڈ کیا جا چکا ہے اور آپ تاخیر کر کے ہم پر اس کے حملہ میں اس کی مدد کر رہے ہیں اور ہمارے ہاتھ روک کر ہمارے دکھ کو بڑھا رہے ہیں آپ کی طرف سے جتنی دیر ہو گی اتنا ہی آئین کی خلاف ورزی کرنے والے لوگ آئین کے پابند لوگوں کو بلا وجہ تکلیف پہنچاتے چلے جائیں گے اس لئے آپ جلد از جلد اس کا فیصلہ کریں ورنہ ۱۵ یا ۲۰ روز کے بعد ہم یہ سمجھ لیں گے کہ آپ اس بارہ میں کچھ نہیں کرنا چاہتے اور پھر خود اپنی حفاظت کیلئے کوئی مناسب قدم قانون کی حدود کے اندر اٹھائیں گے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض دفعہ صدر نیشنل لیگ نے ان معاملات میں مجھ سے مشورہ مانگا ہے مگر میں اس بارہ میں مشورہ دینے سے گریز کرتا رہا ہوں کیونکہ میں چاہتا تھا کہ خود اس کو غور کرنے اور سوچنے سمجھنے کا موقعہ ملے۔ چنانچہ ایک دفعہ میں نے انہیں ایک انگریزی کی ضرب المثل بھی سنائی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ بعض بڑی عمر کے آدمی بھی چاہتے ہیں کہ انہیں بچوں کی طرح چمچوں سے غذا دی جائے ۔ کام کی قابلیت نفس پر بوجھ ڈالنے سے ہی پیدا ہوتی ہے اس لئے میں نے مشورہ دینا مناسب نہ سمجھا لیکن اب کہ کارروائی شروع ہو چکی ہے میں چاہتا ہوں کہ اپنا مشورہ بیان کر دوں ۔ پس میری رائے یہ ہے کہ اگر اس قسم کی چٹھی کے بعد بھی جس کا میں نے ذکر کیا ہے حکومت توجہ نہ کرتی تو پھر لیگ مجاز تھی کہ وہ جو چاہتی کرتی اور اس کا ٹھیک وقت جنوری میں تھا اور اب اپریل میں اسے شروع کرنے کے معنے یہ ہیں گویا تین ماہ کا قیمتی وقت ضائع کر دیا گیا ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ کارروائی شروع ہی بے موقعہ کی گئی ہے کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے اب تک بھی تو حکومت نے کوئی جواب نہیں