خطبات محمود (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 772

خطبات محمود (جلد 17) — Page 222

خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۲۱۳ سال ۱۹۳۶ء سے ہوتی ہیں اور وہ ان سے گھبرا رہے ہوتے ہیں لیکن ان کی گھبراہٹ با موقع نہیں ہوتی اور دشمنوں کی با کو اللہ تعالیٰ نیچا کر رہا ہوتا ہے جبکہ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی ترقی اور بلندی کے سامان ہو رہے ہیں وہ خوش ہورہے ہوتے ہیں لیکن ان کی خوشی بھی با موقع اور باطل نہیں ہوتی ۔ ہر ایک کو ان میں سے اللہ تعالیٰ غفلت میں رکھ رہا ہوتا ہے یہاں تک کہ فیصلہ کا وقت آجاتا ہے اور دونوں فریق اپنی اپنی جگہ حیران رہ جاتے ہیں ۔ وہ جو اس خیال میں دوڑا چلا جا رہا تھا کہ مجھے تخت پر بٹھایا جانے والا ہے۔ وہ یک لخت دیکھتا ہے کہ وہ پھانسی کے تختے پر کھڑا ہے اور جسے یہ خیال تھا کہ اُسے پھانسی کے تختہ کی طرف لے جایا جا رہا ہے وہ یکدم دیکھتا ہے کہ اُسے تخت شاہی پر بٹھا دیا گیا ہے۔ وہ انکشاف کا وقت عجیب وقت ہوتا ہے اس کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کو ایسے حالات میں سے گزرنے کا موقع ملتا ہے ورنہ ایسے غیر معمولی حالات ہوتے ہیں کہ بعد میں آنے والی نسلیں بھی ان کو نہیں سمجھ سکتیں ۔ آج سے اُنیس سو سال پہلے جب یہودی حضرت مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکا رہے تھے۔ اُس وقت ان کے دلوں میں جو خوشی تھی آج اُس کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔ پھر اس وقت حضرت مسیح کے حواریوں کی جو کیفیت تھی اس کا بھی آج کون اندازہ لگا سکتا ہے۔ جو گھبراہٹ اُس وقت حواریوں میں پیدا ہوئی وہ اس بات سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ وہ غریب لوگ جو تلوار چلانا جانتے ہی نہ تھے بغیر اس خیال کے کہ ان کے اس فعل کا نتیجہ کیا ہو گا ان میں سے ایک نے جس کا نام پطرس تھا تلوار نکال لی اور شاہی فوجیوں سے لڑنے کیلئے تیار ہو گیا ۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے اسے منع کیا اور کہا اس سے کیا فائدہ؟ پھر دوسرا اثر پطرس پر یہ پڑا کہ اُس نے حضرت مسیح پر لعنت بھیجی اور کہا میں اسے جانتا ہی نہیں ۔ گویا پہلا اثر تو یہ ہوا کہ وہ بے محل لڑائی کیلئے تیار ہو گیا اور دوسرا اثر یہ ہوا کہ اس نے بلا وجہ اپنے آقا اور اُستاد کا انکار کر دیا۔ خود حضرت مسیح کے قلب کی جو کیفیت تھی وہ اس سے معلوم ہو سکتی ہے کہ وہی مسیح جن کے پاس ایک دفعہ اُن کی والدہ اور بھائی جب ملنے کیلئے آئے تو لوگوں وں نے اطلاع دی آپ کی ماں اور بھائی باہر کھڑے ہیں اور وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا کون ہے میرا بھائی ، کون ہے میری ماں ۔ لیکن دوسرے وقت کی ان کی قلبی کیفیت یہ تھی کہ جب اُن کو صلیب پر لٹکایا گیا اور انہوں نے ہجوم میں اپنی ماں کو کھڑے دیکھا تو ایک