خطبات محمود (جلد 17) — Page 185
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۷۶ سال ۱۹۳۶ء ایک جگہ محدود ہوتی ہیں ۔ اگر ہم پنجاب میں محدود ہوتے تو صرف پنجاب میں محدود ہونے کی وجہ سے کوئی خیال کر سکتا تھا کہ وہ ہمیں مٹادے گا مگر ہم تو ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ پھر پنجاب کے حکام دنیوی اصول کے ماتحت بھی کس طرح خیال کر سکتے ہیں کہ جماعت احمد یہ کو وہ مٹا سکتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو ایک دفعہ مردم شماری کا حکم دیا۔ مردم شماری کی گئی تو پتہ چلا کہ سات سو مسلمان ہیں ۔ اس پر صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! آپ نے کیوں مردم شماری کرائی ؟ کیا آپ کا یہ خیال ہے کہ اب ہمیں کوئی مٹا سکتا ہے ۔ يَا رَسُولَ اللهِ! اب تو ہم سات سو ہو گئے ہیں ہے ۔ پس ہم تو ان لوگوں کے جانشین ہیں جو سات سو ہو کر سمجھتے تھے کہ دنیا کی کوئی طاقت انہیں مٹا نہیں سکتی ۔ گورنمنٹ تسلیم کرتی ہے کہ پچھلی مردم شماری میں جماعت احمدیہ کی تعداد صرف پنجاب میں ۵۶ ہزار تھی ۔ جب ہماری تعداد اس کی اپنی تسلیم شدہ تعداد کے مطابق صرف پنجاب میں ۵۶ ہزار تھی تو ہم تو ان لوگوں کی اولاد ہیں جو سات سو ہو کر مٹنے کا نام نہیں لیتے تھے پھر ہم ۵۶ ہزار ہو کر کس طرح خوف کھا سکتے ہیں ۔ کوفہ کے لوگ ہمیشہ جھگڑتے رہتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے روز روز کے جھگڑے سن کر کہا اب میں ان پر ایک ایسا گورنر مقرر کروں گا جو انہیں سیدھا کر دے گا ۔ چنانچہ انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کو بھیجا جو اُنیس سال کے تھے جب کوفہ والوں کو پتہ لگا کہ ایک اُنیس سالہ نوجوان ان کا گورنر بن کر آیا ہے تو انہوں نے تجویز کیا کہ آؤ اس سے کوئی تمسخر کریں ۔ چنانچہ بڑے بڑے آدمی جسے پہن کر اس سے ملنے کیلئے گئے اور سوال کیا جناب کی عمر؟ جب رسول کریم ﷺ نے اسامہ کو ایک بہت بڑا جیش دے کر جس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی شامل تھے لڑائی کیلئے بھیجا تھا اُس وقت اُن کی عمر اٹھارہ سال کی تھی ، جب کوفہ والوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے پوچھا صلى الله علوسم۔ صلى الله جناب کی عمر؟ تو انہوں نے جواب دیا۔ میری عمر پوچھتے ہو ؟ جس وقت رسول کریم ﷺ نے اُسامہ کو حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ کا افسر بنا کر بھیجا تھا اُس وقت جو عمر اسامہ کی تھی اُس سے ایک سال زیادہ ہے۔ میں بھی ان لوگوں سے یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ صحابہ کرام نے جب سمجھا تھا کہ اب ہم