خطبات محمود (جلد 17) — Page 177
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۶۸ سال ۱۹۳۶ء شورش پیدا نہ ہونے دی ۔ پھر یہاں ہی نہیں سارے پنجاب میں ہم نے لوگوں کو بھیجا اور امن قائم کیا۔ وہ وقت ایسا خطر ناک تھا کہ اگر ذرا آگ لگ جاتی تو انگریز مصنف یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حکومت انگریزی کو شدید صدمہ پہنچتا ۔ اس موقع پر ہم نے گالیاں سنیں ، ماریں کھائیں لیکن حکومت سے غداری نہیں کی بلکہ پورے امن سے رہے اور دوسروں کو امن سے رہنے کی تلقین کی ۔ کیا اس کا وہی صلہ ہے جو آج ہمیں دیا جا رہا ہے؟ ہمارے جذبات اُس وقت دوسرے مسلمانوں سے کم نہیں تھے۔ خلافت ترکیہ کے گو ہم قائل نہیں مگر اسلامی حکومتوں کی ترقی کی اُمنگیں ہمارے دلوں میں دوسرے مسلمانوں سے زیادہ ہیں بلکہ ہم نے تو کبھی اس بات سے انکار نہیں کیا کہ اسلامی حکومت کے قیام کے سب سے زیادہ خواب ہمیں ہی آتے ہیں اور خواب آنا تو لوگ وہم سمجھتے ہیں ہمیں تو الہام ہوتے ہیں کہ اسلامی حکومتیں دنیا میں قائم کی جائیں گی پس ہمیں کتنا دکھ ہوتا تھا یہ دیکھ کر کہ انگریزی حکومت ہم ہی سے قربانیاں لینے کے بعد ترکوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر رہی ہے۔ ہمارے دل بھی زخمی تھے اور ہمارے دلوں سے بھی یہ دیکھ کر خون بہہ رہا تھا کہ صرف ایک قابلِ ذکر اسلامی حکومت دنیا میں باقی تھی مگر افسوس کہ اسے بھی ٹکڑے ٹکڑے کیا جا رہا ہے لیکن باوجود اس کے کہ ہمارے جذبات سے کھیلا گیا ہم نے امن قائم رکھنے کی پوری کوشش کی اور کسی ایسی حرکت کو پسند نہ کیا جس سے حکومت کیلئے مشکلات پیدا ہوں ۔ میرے جذبات کی شدت کا ثبوت اس سے مل سکتا ہے کہ میں نے انہی دنوں مسلمانوں کے سامنے یہ بات پیش کی تھی کہ اگر آپ لوگ پُر امن طریق سے کوشش کریں اور اس پر زور نہ دیں کا بادشاہ سب مسلمانوں کا خلیفہ ہے صرف یہ کہیں کہ اکثر مسلمان ان کو خلیفہ تا سله ہیں لیکن باقی مسلمان بھی ان کو واجب الاحترام تسلیم کرتے ہیں تو میں پچاس ہزار روپیہ اور اپنے تمام بیرونی مبلغ آپ کو اس غرض کیلئے دینے پر تیار ہوں کہ وہ ٹرکوں کی حمایت میں پرو پیگنڈا کریں ۔ آج ہماری جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت بڑھی ہوئی ہے اور اس کی مالی حالت پہلے سے اچھی ہے لیکن ۱۹۱۹ء میں تو بہت ہی کمزور حالت تھی ۔ اُس زمانہ کے پچاس ہزار روپے آجکل کے تین چار لاکھ کے برابر ہیں مگر مسلمانوں نے میری تجویز منظور نہ کی اور گاندھی جی کے نان کو آپریشن کے مشورہ کو قبول کر لیا۔ لیکن اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجھے حکومت ترکیہ کے