خطبات محمود (جلد 17) — Page 130
خطبات محمود جلد نمبر ۱۷ ۱۲۱ سال ۱۹۳۶ء کر دیا جائے تو میں اسے پولیس افسر بنانا چاہتا ہوں اور اسے ڈسچارج دلا کر پولیس میں ایک اچھے معہدے پر مقرر کرا دیا اور اس طرح راستی کی بدولت وہ مالی لحاظ سے بھی فائدہ میں رہا۔ پس صداقت ایک ایسی چیز ہے جو دلوں کو فتح کرتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سید عبد القادر صاحب جیلانی ابھی بچے تھے کہ ان کی ماں نے ان کو ان کے ماموں کے پاس تجارت سیکھنے کی غرض سے ایک قافلہ کے ساتھ بھیجا اور چالیس پونڈ ان کی گدڑی میں سی دیئے ۔ راستہ میں قافلہ لٹ گیا ۔ ایک ڈاکو نے ان سے پوچھا کہ تمہارے پاس بھی کچھ ہے؟ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ ہاں چالیس پونڈ ہیں ۔ اسے اعتبار نہ آیا اور گھور گھار کر چلا گیا۔ پھر کسی اور نے یہی سوال کیا اور آپ نے یہی جواب دیا۔ آخر ڈا کو ان کو پکڑ کر اپنے افسر کے پاس لے گئے ۔ اس نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس واقعی چالیس پونڈ ہیں یا یو نہی کہتے ہو؟ آپ نے کہا میرے پاس ہیں اس لئے کہتا ہوں ۔ اُس نے کہا کہاں ہیں؟ تو آپ نے کہا گدڑی میں ۔ میری ماں نے سی دیئے تھے ۔ گاڑی کھولی گئی تو چالیس پونڈ نکل آئے ۔ افسر کو حیرت ہوئی اور اس نے کہا کہ تم بہت بیوقوف ہو تم نے کیوں نہ کہہ دیا کہ میرے پاس کچھ نہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ جب میرے پاس تھے تو میں جھوٹ کس طرح بول دیتا۔ اس بات کا اُس چور پر اتنا اثر ہوا کہ اس نے جھٹ توبہ کرلی اور یہی وہ واقعہ ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ نے چوروں کو قطب بنا دیا۔ پس امانت اور راستی بڑی عجیب چیزیں ہیں اور ایسی تلواریں ہیں جن سے تم قوی سے قوی دشمن کو قتل کر سکتے ہو اور پھر تم جسے قتل کرو گے وہ لمبی زندگی پائے گا۔ ابو جہل وغیرہ نے لوہے کی تلوار سے مسلمانوں کو مارا مگر خود مر گئے لیکن صداقت کی تلوار سے رسول کریم ﷺ نے جن لوگوں کو مارا وہ ہمیشہ کیلئے زندہ ہو گئے ۔ جیسا کہ حضرت ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ ۔ پس تم صداقت کی تلوار ہاتھ میں لو اور قتلِ عام کرتے جاؤ ۔ تمہارا یہ قتل عام دنیا کیلئے بہت بڑی برکات کا موجب ہوگا ۔ پس اپنے مقام کو سمجھو، تم دنیوی بادشاہوں کے سپاہی نہیں ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کے سپاہی ہو اور تمہارے لئے سب سے بڑی تلوار قرآن اور صداقت کی تلوار ہے اِسے لے کر دنیا میں نکلو پھر تمہارے اندر ایسی تاثیر پیدا ہو جائے گی کہ تمہارے مقابل پر آنے والا خود بخود مرعوب