خطبات محمود (جلد 16) — Page 833
خطبات محمود ۸۳۳ سال ۱۹۳۵ء کئے پر پشیمان ہوا اور دوسرے گھنٹہ میں ہی وہ اپنے رب کے سامنے جھک جائے اور کہے کہ اے میرے رب ! مجھ سے غلطی ہوئی مجھے معاف فرما ئیں پس ہو سکتا ہے وہ معاف کر دیا جائے لیکن آوارہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتا کیونکہ وہ مردہ ہوتا ہے اُس میں کوئی روحانی حسن باقی نہیں ہوتی ۔ میرے نزدیک دنیا کا خطرناک سے خطر ناک مجرم آوارگی سے کم ہے ۔ اور آوارگی مجموعہ جرائم ہے۔ کیونکہ جرم ایک جزو ہے اور آوارگی تمام جرائم کا مجموعہ ۔ ایک بادشاہ کے ہاتھ کی قیمت بادشاہ کی قیمت سے کم ہے، ایک جرنیل کے ہاتھ کی قیمت جرنیل سے کم ہے اسی طرح ہر جرم کی پاداش آوارگی سے کم ہے کیونکہ جرم ایک جزو ہے اور آوارگی اس کا گل ہے ۔ تم دنیا سے آوارگی مٹا ڈالو تمام جرائم خود بخودمٹ جائیں گے ۔ تمام جرائم کی ابتداء بچپن کی عمر سے ہوتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بچہ آوارگی میں مبتلاء ہوتا ہے تم بچے کو گھلا چھوڑ دیتے ہو اور کہتے ہو یہ بچہ ہے اس پر کیا پابندیاں عائد کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خطرناک جرائم کا عادی بن جاتا ہے ۔ اگر دنیا اپنے تمدن کو ایسا تبدیل کر دے کہ بچے فارغ نہ رہ سکیں تو یقیناً دنیا میں جرائم کی تعداد معقول حد تک کم ہو جائے ۔ لوگ اصلاح اخلاق کے لئے کئی کئی تجویزیں سوچتے اور قسم قسم کی تدبیریں اختیار کرتے ہیں مگر وہ سب نا کام رہتی ہیں اس کے مقابلہ میں اگر بچوں کو کام پر لگا دیا جائے اور بچپن کی عمر کو فارغ عمر نہ قرار دیا جائے تو نہ چوری باقی رہے نہ جھوٹ ، نہ دغا ، نہ فریب اور نہ کوئی اور فعلِ بد ۔ بالعموم لوگ بچپن کی عمر کو بیکاری کا جائز زمانہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ بیکاری بھی ویسی ہی نا جائز ہے جیسے بڑی عمر میں کسی کا بیکار رہنا۔ چنانچہ ہماری شریعت نے اس کو خصوصیت سے مد نظر رکھا ہے اور رسول کریم ﷺ نے اس کے متعلق امت محمد یہ کو ہدایت دی ہے ۔ پاگل اور دیوانے کہتے ہیں کہ یہ بے معنی حکم ہے ۔ حالانکہ یہ بہترین تعلیم ہے جو بچوں کے اخلاق کی اصلاح کے لئے رسول کریم ﷺ نے دی ۔ آپ فرماتے ہیں جب بچہ پیدا ہو تو اُس کے دائیں کان میں اذان کہو اور بائیں میں اقامت ۔ وہ بچہ جو ابھی بات نہیں سمجھتا ، وہ بچہ جو آج ہی پیدا ہوا ہے رسول کریم ﷺ اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ تم آج ہی اس سے کام لو اور پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان دو ۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ بچہ کے پیدا ہوتے ہی تمہیں اس کے کان میں اذان دینی چاہئے لیکن دوسرے اور تیسرے دن نہیں ۔ کیا پہلے دن بچہ اذان کو سمجھ سکتا تھا مگر مہینہ کے بعد کم فہم ہو جاتا ہے کہ تم اس حکم کو نظر انداز کر دیتے ہو یا سمجھتے ہو کہ پہلے دن تو وہ اس قابل تھا کہ اس سے کام لیا