خطبات محمود (جلد 16) — Page 830
خطبات محمود ۸۳۰ سال ۱۹۳۵ء لحاظ سے بھی بیکاری ایک لعنت ہے اور جس قدر جلد ممکن ہو ڈور کرنا چاہئے ۔ ہمارے ملک کی آمد پہلے ہی چھ پائی فی کس ہے اور یہ ہر شخص کی آمد نہیں بلکہ کروڑ پتیوں کی آمد ڈال کر اوسط نکالی گئی ہے اور ان لوگوں کی آمد ڈال کر نکالی گئی ہے جن کی دو دو تین تین لاکھ روپیہ ماہوار آمد ہے ۔ ورنہ اگر ان کو نکال دیا جائے تو ہمارے ملک کی آمد فی کس دو تین پائی رہ جاتی ہے ۔ جس ملک کی آمدنی کا یہ حال ہو اُس میں سمجھ لو کتنے بیکار ہو نگے ۔ نگے ۔ اگر ملک کے تمام افراد کی کے تمام افراد کام پر لگے ہوئے ہوتے تو یہ حالت نہ ہوتی ۔ لیکن اب تو یہ حال ہے کہ اگر کوئی دو آ نے کماتا ہے تو اُس پر اتنے بیکاروں کا بوجھ ہوتا ہے کہ اپنے لئے اُس کی آمد دمڑی رہ جاتی ہے اور جو کماتا ہے اس کی آمد پر بھی اثر پڑتا ہے تو بیکاروں کی وجہ سے ایک تو دوسرے لوگ ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ بیکار ان کے لئے بوجھ بنتے ہیں دوسرے جب ملک میں ایک طبقہ ایسا ہو جو آگے نہ بڑھنے والا ہو تو دوسرے لوگوں کا قدم بھی ترقی کی طرف نہیں بڑھ سکتا کیونکہ بیکار مزدوری کو بہت کم کر دیتے ہیں ۔ بریکار شخص ہمیشہ عارضی کام کرنے کا عادی ہوتا ہے اور جب کسی کی بیکاری حد سے بڑھتی اور وہ بھوکوں مرنے لگتا ہے تو مزدوری کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے لیکن چونکہ اُسے سخت احتیاج ہوتی ہے اس لئے اگر ایک جگہ مزدور کو چار آنے مل رہے ہوں تو یہ دو آنے لے کر بھی وہ کام کر دے گا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سارے مزدوروں کی اُجرت دو آنے ہو جائے گی ۔ اور لوگ کہیں گے کہ جب ہمیں دو دو آنے پر مزدور مل جاتے ہیں تو ہم چار آنے مزدوری کیوں دیں ۔ پس وہ ایک بیکار ساری دنیا کے مزدوروں کی اُجرت کو نقصان پہنچاتا اور سب کو دو آنے لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن قوموں میں بیکاری زیادہ ہو اُن میں مزدوری نہایت سستی ہوتی ہے کیونکہ بیکار مجبوری کی وجہ سے کام کرتا اور باقی مزدوروں کی اُجرتوں کو نقصان پہنچادیتا ہے۔ لیکن جن قوموں میں بیکاری کم ہو اُن میں مزدوری مہنگی ہوتی ہے ۔ تو بیکار اقتصادی ترقی کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں بیکار شخص ہمیشہ مانگنے کا عادی ہو گا دوسروں پر بوجھ بنے گا اور اگر کبھی مزدوری کرے گا تو مزدوروں کی ترقی کو نقصان پہنچائے گا۔ پس اقتصادی لحاظ سے بھی بیکاروں کا وجود سخت خطر ناک ہے۔ پھر نہ صرف اقتصادی لحاظ سے بیکاروں کا وجود خطرناک ہے بلکہ قومی لحاظ سے بھی ان کا وجود خطرناک ہے۔ اگر کسی قوم میں دس ہزار میں سے ایک ہزار بیکار ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس قوم کے پاس سو میں سے صرف نوے شخص موجود ہیں اور ان پر بھی دس فیصدی کا بوجھ ہے ۔ ایسی قوم دنیا کی اور