خطبات محمود (جلد 16) — Page 821
خطبات محمود ۸۲۱ سال ۱۹۳۵ء صحابہ کوڈ ہری تکلیف ہوتی تھی ہر گالی جو رسول کریم ﷺ کو ملتی وہ بھی اُنہی کے دل پر پڑتی تھی ۔ اور وہ صلى الله عروسه بھی جو خود ان کو ملتی بلکہ اپنی تکلیفوں کو وہ رسول کریم ﷺ کی تکلیف کے مقابل پر کچھ بھی نہ سمجھتے تھے ۔ وہ خود ساری عمر بھوکا رہنا پسند کر سکتے تھے مگر یہ امر ان کی برداشت سے باہر تھا کہ رسول کریم پر ایک فاقہ بھی گزرے۔ اُنکے عشق کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ایک واقعہ تاریخ میں آتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وفات کے کئی سال بعد جب ایران فتح ہوا تو وہاں سے پن چکیاں آئیں جو باریک آٹا پیستی ہی تھیں میں ۔ ۔ ۔ : جب جب پہلی 5 دفعہ بار یک میدہ مدینہ میں تیار ہو اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا گیا تو آپ نے اُس کی روٹی پکوائی لیکن جب اس کا لقمہ حلق میں گیا تو آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے ۔ آپکی کسی سہیلی نے پوچھا کہ آپ رونے کیوں لگیں یہ تو بہت نرم پھلکے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے یہ خیال آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایسی چکیاں نہ تھیں ہم پتھروں سے ہی آٹا پیتے تھے جو بہت موٹا ہوتا تھا اگر یہ میدہ اُس زمانہ میں ہوتا تو میں آنحضرت ﷺ کو اس کی روٹیاں پکا کر کھلاتی ۔ یہ اُس عشق کا ایک مظاہرہ تھا جو مؤمن اور مومنہ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے پیدا تھا۔اب تم دیکھو کہ تم کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیت سے کس قدر عشق ہے؟ کیا تمہارے گلے میں بھی ہر وہ نعمت پھنستی ہے جس سے احمدیت کو حصہ نہیں ملا ۔ ہماری دنیوی نعمتیں اس وقت ہیں ہی کیا جنہیں ہم قربان نہ کر سکیں ۔ یورپ کا ایک ادنی لارڈ ہمار کا ایک ادنی لارڈ ہمارے کئی گاؤں خرید سکتا ہے اور یورپ کا ایک مزدور آسائش کے اِس قد ر سامان رکھتا ۔ ہے جو ہمارے ہاں کے نوابوں کو بھی میسر نہیں ۔ پس ہمارے پاس ہے ہی کیا جس کی قربانی ہم کو بوجھل معلوم ہوتی ہے۔ اگر عشق ہو تو وہ کپڑے جن پر تم فخر کرتے ہوا اور وہ نرم بستر جن میں تم آرام کرتے ہو تمہیں کانٹوں کی طرح چبھنے چاہئیں کیونکہ دینِ احمد کو وہ زینت میسر نہیں جو تم کو میسر ہے اور اسے وہ آرام میسر نہیں جو تم کو میسر ہے ۔ پس عشق پیدا کرو پھر تمہارے رستہ میں کوئی روک باقی نہیں رہے گی، کسی نصیحت کی بھی تم کو ضرورت نہ ہوگی اور ہر ضروری قربانی تم آپ ہی آپ کرتے جاؤ گے جس طرح پانی چشمہ سے آ رح پانی چشمہ سے آپ ہی آپ اُبلتا چلا آتا ہے ۔ لیکن جب تک یہ فدائیت نہ ہوگی یہ ماریں پڑتی رہیں گی اور گالیاں ملتی رہیں گی پس ان کو بند کرنا یا جاری رکھنا تمہارے اپنے اختیار میں ہے جو گھوڑا اُڑتا ہے اچھا سوارا سے دور تک لے جاتا ہے تا کہ وہ تھک