خطبات محمود (جلد 16) — Page 814
خطبات محمود الد سال ۱۹۳۵ء وہ بھی قابل قدر ہوتے ہیں ۔ حضرت خلیفہ اول مجھ سے بہت محبت کرتے تھے ۔ بعض دفعہ کوئی غیر میری شکایت کر دیتا تو مجھ سے پوچھتے ۔ جب میرا جواب سن لیتے تو کہتے میاں بُرا نہ منانا ” عشق است و هزار بدگمانی مجھے اس وقت بچپن کی ایک بات یاد آگئی مجھے اس پر ہنسی بھی آیا کرتی ہے اور اس پر ناز بھی ۔ ہے تو وہ جہالت کی بات ۔ مگر ایسی جہالت جس پر عقل کے ہزاروں فعل قربان کئے جا سکتے ہیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دفعہ رات کے وقت صحن میں سو رہے تھے کہ بادل زور شور سے گھر آئے اور بجلی نہایت زور سے کڑکی ۔ وہ کڑک اس قدر شدید تھی کہ ہر شخص نے یہی سمجھا کہ گویا بالکل اُس کے پاس بجلی گری ہے ۔ اِس کیفیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ہمارے بورڈنگ ہاؤس کا ایک لڑکا اُس وقت گھبرا کر چار پائی سے گر پڑا اور اس نے خیال کیا کہ بجلی مجھ پر گری ہے اور اس خوف سے اس نے شور مچانا شروع کیا مگر دہشت کی وجہ سے اُس کی زبان سے لفظ تک نہیں نکلتا تھا۔ سننے والے حیران تھے کہ وہ چار پائی کے نیچے پڑا ہوا ملی ملتی “ کا شور کر رہا تھا آخر کچھ دیر کے بعد وہ سمجھے کہ یہ بجلی بجلی کر رہا ہے ۔ خیر تو جب بادل زور سے آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو صحن میں سو رہے تھے چار پائی سے اُٹھ کر کمرہ کی طرف جانے لگے ۔ دروازہ کے قریب پہنچے کہ بجلی زور سے کڑکی ۔ میں اُس وقت آپ کے پیچھے تھا میں نے اُسی وقت اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا کر آپ کے سر پر رکھ دیئے۔ اس خیال سے کہ اگر بجلی گرے تو مجھ پر گرے آپ پر نہ گرے اب یہ ایک جہالت کی بات تھی بجلیاں جس خدا کے ہاتھ میں ہیں اُس کا تعلق میری نسبت آپ سے زیادہ تھا بلکہ آپ کے طفیل میں بھی بجلی سے بچ سکتا تھا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ ہاتھوں سے بجلی کو نہیں روکا جا سکتا مگر عشق کی وجہ سے مجھے ان سب باتوں میں سے کوئی بات بھی یاد نہ رہی ۔ محبت کے وفور کی وجہ سے یہ سب باتیں میری نظر سے اوجھل ہو گئیں اور میں نے اپنے آپ کو قربانی کے لئے پیش کر دیا۔ یہ جہالت کی بات تھی مگر اس جہالت پر میں آج بھی ہزار عقل قربان کر دینے کے لئے تیار ہوں کیونکہ یہ جہالت عشق کی وجہ سے تھی ۔ حضرت ابو بلر دو ، ابو بکر رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی آنحضرت ﷺ سے عشقیہ تھا۔ جب آپ مدینہ میں داخل ہونے کے لئے مکہ سے نکلے تو اُس وقت بھی آپ کا تعلق عائشہ عاشقانہ تھا اور جب آپ کی وفا وفات کا وقت آیا تو اُس وقت بھی تعلق عاشقانہ تھا۔ چنانچہ جب آنحضرت ﷺ پر إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ صلى عروس